خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 480
خطابات شوری جلد سوم ۴۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء عجوبہ کے طور پر اُسے دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔انگلستان میں چونکہ ہماری مسجد کئی سال سے قائم ہے، اس لئے ہر سال مختلف مقامات سے لوگ وہاں آتے رہتے ہیں اور ان کے آنے کی غرض محض یہ ہوتی ہے کہ ہم مسجد دیکھنا چاہتے ہیں۔چنانچہ جب وہ آتے ہیں تو ہمارے مبلغوں کو بھی تبلیغ کا موقع مل جاتا ہے اور انہیں لٹریچر وغیرہ دیا جاتا ہے۔پس یورپین ممالک میں مسجد تبلیغ کا ایک ضروری حصہ ہے مگر اب تک مساجد کی تعمیر بھی کسی پروگرام کے ماتحت نہیں۔مثلاً ہم نے لنڈن میں مسجد کی تحریک کی اور مردوں نے اس کے لئے چندہ دیا۔دوسری طرف برلن مسجد کے لئے عورتوں میں تحریک کی گئی اور ان کے چندہ سے زمین بھی خریدی گئی مگر حکومت کی طرف سے ایسی شرطیں عائد کر دی گئیں کہ ہم یہ مسجد نہ بنا سکے اور وہی روپیہ ہم نے لنڈن مسجد میں لگا دیا۔مسجد خدا تعالیٰ کے فضل سے بن گئی اور کچھ روپیہ بیچ بھی گیا۔چنانچہ اُس وقت سے ہمارا قریباً ایک ہزار پونڈ بنک میں محفوظ پڑا تھا۔اب مسجد کی مرمت کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی کیونکہ اس کی چھت وغیرہ ٹوٹ گئی تھی۔مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے لکھا کہ روپیہ موجود ہے وہ روپیہ لو اور مسجد کی مرمت کے لئے خرچ کر لو۔اگر اس روپیہ کو پہلے ہی خرچ کر لیا جاتا تو اب دقت پیش آتی۔اس کے بعد مسجد ہالینڈ کا سوال پیدا ہوا اور زمین خریدی گئی۔اس مد میں پچاس ہزار روپیہ کی آمد ہوئی تھی جس میں سے ۳۲ ہزار کی زمین خریدی گئی۔اب مسجد اور مکان پر ساٹھ سے ستر ہزار روپیہ کے خرچ کا اندازہ ہے اور ہمارے پاس ۱۹،۱۸ ہزار روپیہ ہے۔گویا ۵۰ ہزار روپیہ کی ابھی ہمیں اور ضرورت ہے۔مشکل یہ ہے کہ جس شخص سے زمین لی گئی ہے اُس سے یہ شرط کی گئی تھی کہ یہ زمین محض مسجد کے لئے استعمال کی جائے گی۔اگر اس میں زیادہ دیر ہو جائے تو وہ بھی قانون کے مطابق کسی وقت دعوی کر کے زمین واپس لے سکتا ہے۔واشنگٹن کی مسجد کے لئے ڈیڑھ لاکھ کی تحریک کی گئی تھی جس میں جماعت نے صرف ۳۷ ہزار روپیہ دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ چھیاسی ہزار روپیہ تحریک کی مختلف مدات سے ہمیں قرض لینا پڑا اور اب اس بوجھ کو اُتارنے کے لئے ہمیں روپیہ کی ضرورت ہے۔پس مساجد کے متعلق ہماری جماعت کو ایک معتین پالیسی طے کرنی چاہئے۔لنڈن میں مسجد بن چکی ہے۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ میں مکان خریدا جا چکا ہے مگر مسجد ابھی نہیں بنی۔اسی طرح ہالینڈ ،