خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 478
خطابات شوری جلد سوم ۴۷۸ مشاورت ۱۹۵۲ء بھی جن پر میں نے نشان لگایا ہے تو انہی پر ستر اسی ہزار روپیہ خرچ ہو جاتا ہے۔اس کا طریق یہی ہے کہ کچھ اس سال کتابیں منگوائی جائیں اور کچھ اگلے سال۔پھر اسلامی لٹریچر پر کئی قسم کی کتابیں نکل رہی ہیں۔کچھ مصر والے شائع کر رہے ہیں، کچھ شام والے شائع کر رہے ہیں، کچھ یورپ والے شائع کر رہے ہیں۔جب تک وہ کتابیں بھی ہمارے پاس موجود نہ ہوں ہم اپنے علم کے لحاظ سے اپ ٹو ڈیٹ (UP TO DATE) نہیں سمجھے جاسکتے۔یورپ والے بعض دفعہ فخریہ طور پر ان کتابوں کے حوالے دیتے ہیں اور بعض دفعہ زبانی گفتگو میں چھ بیٹھتے ہیں کہ فلاں کتاب آپ نے پڑھی ہے یا نہیں؟ اور اگر انہیں یہ کہا جائے کہ ہمیں تو اس کتاب کا علم ہی نہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس شخص کو علمی شوق نہیں ہے۔غرض یہ کام نہایت اہم ہے اس کے بغیر ہماری جماعت کی علمی ترقی نہیں ہو سکتی۔مرکزی لائبریری یعنی حضرت خلیفہ اول کی لائبریری بھی اسی میں شامل ہو جائے گی۔اور پھر میری کتابیں بھی آخر آپ لوگوں کے ہی کام آتی ہیں۔اس طرح پانچ سات سال میں اس قدر کتا ہیں جمع کر لی جائیں کہ ہر قسم کے علوم ہمارے پاس محفوظ ہو جائیں۔میں تو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ کیوں ہمارے علماء اپنی ذہنی وسعت کے لئے کوشش نہیں کرتے اور کتا ہیں تو الگ رہیں میں تو جادو کی کتاب ہاتھ آ جائے اُسے بھی نہیں چھوڑتا۔ہتھکنڈوں کی کتاب مل جائے اُسے بھی پڑھ جاتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر علم والے سے بات کر لیتا ہوں اگر اور لوگ بھی اسی رنگ میں کوشش کریں تو وہ بھی اپنے علم کو بہت بڑھا سکتے ہیں۔مجھے ایسی مشق ہے کہ میں کتاب کو پڑھتے ہی صحیح اور غلط بات کا فوراً پتہ لگا لیتا ہوں اور اِس طرح تھوڑے سے وقت میں میں کتاب کا بہت بڑا حصہ پڑھ لیتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول کو بھی ایسی ہی مشق تھی۔ہم آپ کو بچپن میں پڑھتے دیکھتے تو حیران ہوا کرتے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ کتاب اُٹھائی اس کے ایک صفحہ پر جستہ جستہ نظر ڈالی اور جھٹ اُلٹ کر دوسرے صفحہ پر جا پہنچے۔بس چند سیکنڈ میں ہی اُس پر نظر ڈالی کہ آگے جا پہنچے اور ہم حیران ہوتے تھے کہ آپ اتنی جلدی کس طرح پڑھ لیتے ہیں مگر بڑے ہو کر خود مشق ہوئی تو معلوم ہوا کہ کثرت مطالعہ کے نتیجہ میں یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور انسان کتاب پر ایک نظر ڈالتے ہی پتہ لگا لیتا ہے کہ یہ میرے کام کی چیز ہے یا نہیں اور