خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 477

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء اس زبان کو سیکھیں جس میں یہ پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں اور اُن کتابوں کو پڑھیں جنہیں آپ کی صداقت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔اس غرض کے لئے سب سے اہم چیز وید ہیں ، پھر ویدوں کی تشریحات ہیں، اسی طرح پر ان ہیں اور پھر پُرانوں کی تشریحات ہیں، گیتا اور اُس کی تفسیر ہے، یہ تمام کتابیں ہندو فلسفہ پر مشتمل ہیں اور ہمارے پاس ان کا موجود ہونا ضروری ہے لیکن میرا خیال ہے کہ ہماری لائبریری میں ایسی کتابیں بہت ہی کم ہوں گی۔ہمارے مبلغ جو ہندوؤں اور سکھوں میں کام کرتے ہیں، ان کو کتابوں کا شوق ہے۔معلوم نہیں کہ شوق ان کے دلوں میں کس طرح پیدا ہوگا۔چنانچہ مہاشہ فضل حسین صاحب کے پاس بڑا کافی لٹریچر موجود ہے۔مہاشہ محمد عمر صاحب کے پاس بھی کئی کتابیں ہیں، گیانی عباداللہ صاحب اور گیانی واحد حسین صاحب کے پاس بھی کتابیں ہیں مگر مولویوں کو اس کا کوئی شوق نہیں۔میرے خیال میں اگر ان چاروں کی کتابیں جمع کی جائیں تو اتنی کتابیں سو مولوی کے پاس بھی نہیں نکلیں گی بلکہ شاید ان سے آدھی بھی نہیں ملیں گی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اگر روڈ ر گوپال کہا گیا تھا تو اس کے کوئی معنے تھے اور وہ معنی یہی تھے کہ ہندو قوم کو تبلیغ کی جائے مگر جن لوگوں کو نہ ہندو قوم کے خیالات کا پتہ ہے نہ ان کی زبان کا علم ہے انہوں نے تبلیغ کیا کرنی ہے۔پس ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی تمام کتابیں ہمارے پاس ہونی چاہیں اور وہ ہزاروں ہزار ہیں۔میں سمجھتا ہوں کم سے کم دس بارہ ہزار کتاب ضرور ہو گی مگر یہ تو ایک لمبی خواب ہے سرِ دست ہم نے دس ہزار کے خرچ سے اس کام کو شروع کر دیا ہے۔پھر کسی سال پندرہ ہزار اور کسی سال بیس ہزار روپیہ بھی اس غرض کے لئے رکھا جا سکتا ہے۔اور پھر اور اور اور اسے بڑھایا جا سکتا ہے۔اسی طرح عیسائی لٹریچر ہمارے پاس قطعی طور پر ہے ہی نہیں۔ایک کتاب انسائیکلو پیڈیا برٹنیکا کے خریدنے پر ہی نو سو روپیہ خرچ ہو گیا۔باقی کتابوں کی میں نے ولایت سے لسٹیں منگوائی ہیں اور میں ان کو دیکھ رہا ہوں۔میں نے لنڈن میں چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ کو لکھا کہ اِس اِس قسم کی کتابوں کی فہرستیں مجھے بھجوائی جائیں۔پہلے تو وہ گھبرائے مگر پھر اُنہوں نے ادھر اُدھر ہاتھ مارے۔آخر جوئندہ یا بندہ اُنہوں نے نہایت اعلیٰ درجہ کی دوسٹیں تلاش کر کے مجھے بھجوائیں جن میں کئی ہزار کتابوں کی فہرست دی گئی ہے۔میں ان فہرستوں پر نشان لگا رہا ہوں لیکن اگر ہم وہی کتا ہیں منگوانا چاہیں