خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 473

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء محدودر ہے گی۔لائبریری کی اصل غرض بہت وسیع ہے۔ہماری جماعت کو چونکہ علمی چیزوں سے شغف کم ہے اس لئے وہ سمجھتے نہیں کہ لائبریرین کا کام کیا ہوا کرتا ہے۔میں دوستوں کو بتاتا ہوں کہ ایک کارآمد لائبریرین کے کیا فرائض ہونے چاہئیں۔اوّل۔لائبریری میں ہرفن کے جاننے والے آدمی ہونے چاہئیں۔ان کا کام یہ ہو کہ وہ کتابیں پڑھتے رہیں اور ان کے خلاصے نکالتے رہیں اور ان خلاصوں کو ایک جگہ نتھی کرتے چلے جائیں۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب لوگوں کو ان کتابوں کے حوالوں کی ضرورت ہوگی ، وہ خلاصہ سے فوراً ضروری باتیں اخذ کر لیں گے۔مثلاً ہماری جماعت کا یہ ایک معروف مسئلہ ہے کہ حضرت مسیح کشمیر گئے تھے۔اب مسیح کے کشمیر جانے کا کچھ حصہ انجیلوں سے تعلق رکھتا ہے، کچھ انجیلوں کی تفسیروں میں بحث آئے گی کہ یہ جو لکھا ہے کہ میں بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اس میں کھوئی ہوئی بھیڑوں سے بنی اسرائیل کے کون کون سے قبائل مراد ہیں اور مسیح ان کی تلاش کے لئے کہاں کہاں گئے۔یا جو لکھا ہے کہ مسیح گہر میں غائب ہو گیا اس کے کیا معنے ہیں۔یہ فقرہ بتاتا ہے کہ اس میں مسیح کے سفر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔غرض جو لوگ تفسیر کریں گے اُن کا ذہن اس طرف ضرور جائے گا کہ ان فقروں کا حل کیا ہے اور وہ اس پر بحث کریں گے۔جس طرح ہمارے ہاں تفسیریں ہیں اسی طرح عیسائیوں میں بھی سینکڑوں تفسیریں ہیں۔اب جو لائبریرین مقرر ہوں گے، ان میں سے وہ جو عیسائی لٹریچر پر مقرر کیا جائے گا اُس کا کام یہ ہوگا کہ وہ زائد وقت میں تمام تفاسیر پر نظر ڈالتا چلا جائے اور ان کے انڈیکس تیار کرتا چلا جائے جس وقت ہم کو کسی تحقیق کی ضرورت ہو گی ہم انچارج کو بلا کر کہیں گے کہ کتابوں پر نشان لگا کر لاؤ کہ مفسرین نے اس بارہ میں کہاں کہاں بحث کی ہے۔پھر یہی مضمون تاریخوں میں بھی آتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد تاریخوں کے ماہر کو بلایا جائے گا اور اُسے کہا جائے گا کہ اس اس مضمون کے متعلق تاریخی کتابوں پر نشان لگا کر لاؤ اِس طرح کتاب لکھنے والا آسانی اور سہولت کے ساتھ کتاب لکھ لے گا۔کتاب والے کا فن یہ ہوگا کہ وہ اپنی کتاب کے لئے چند اصول تجویز کرے اور پھر اپنے مضمون کو ترتیب دے اور اُسے ایسی عبارت میں لکھے جو مؤثر اور دلنشین ہو۔گویا