خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 471

خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۵۲ء اپنے پاس سے کریں گے اور پھر خدا تعالیٰ کو ان معنوں کے تابع کرنا چاہیں گے اور کہیں گے کہ ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ ہم نے الہام کا یہ مطلب سمجھ رکھا ہے۔چنانچہ ایسے ہی لوگ شروع میں انہیں خیالات میں مبتلا رہے کہ دو مہینہ کے بعد ہم نے قادیان واپس چلے جانا ہے، ہمیں کتابیں منگوانے کی کیا ضرورت ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اکتوبر یا نومبر میں گورنمنٹ نے لائبریری کو تالے لگا دیئے مگر میں نے اپنے بیٹوں کو چونکہ تاکید کر دی تھی کہ جلدی وہاں سے کتا بیں نکال کر بھجوا دو کیونکہ یہی تو ہماری اصل جائیداد ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے میری کتابوں میں سے دو تہائی یا شاید اس سے بھی زیادہ کتابیں آ گئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول کی لائبریری کے متعلق میں کہہ نہیں سکتا کہ اس کی کتنی کتا بیں آئی ہیں لیکن حضرت خلیفہ اول کی جتنی بڑی لائبریری تھی اُس کو مدنظر رکھتے ہوئے میرا اندازہ یہی ہے کہ آپ کی کتابوں کا اکثر حصہ وہیں رہ گیا ہے۔لائبریری کی کتب میں اضافہ کی تلقین پھر دنیا میں نئی سے نئی کتا بیں نکل رہی ہیں اور ان کتابوں کا منگوانا بھی ضروری ہے۔صرف مذہب سے تعلق رکھنے والی ہی نہیں بلکہ تاریخی اور ادبی کتابیں منگوانا بھی لائبریری کی تکمیل کے لئے ضروری ہوتا ہے۔میرا اندازہ یہ ہے کہ اچھی لائبریری وہ ہوسکتی ہے جس میں کم سے کم ایک لاکھ جلد منتخب کردہ کتب کی موجود ہو اور اگر ایک جلد کی اوسط قیمت ۲۵ روپے لگا لی جائے تو میرے نزدیک صرف ایک لائبریری کے لئے پچیس لاکھ روپیہ ہونا چاہئے لیکن ظاہر ہے کہ چھپیس لاکھ روپیہ خرچ کرنے کی ہم میں ہمت نہیں ایسی صورت میں یہی طریق رہ جاتا ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق اس بوجھ کو اُٹھائیں اور اس کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اس کام کو اپنے سامنے رکھیں اور اپنی لائبریری کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرتے چلے جائیں۔لائبریری کا بجٹ بھی پرائیویٹ سیکرٹری کے بجٹ میں ہوگا گو اس کے خرچ کا تعلق لائبریرین سے ہو گا۔عام طور پر ہمارا طریق یہ ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں کسی کام کی ہمت نہیں تو ہم اُس کام کو کرتے ہی نہیں حالانکہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا چاہئے۔پس میں تجویز کروں گا کہ فنانس کمیٹی ان تمام حالات کو دیکھ لے اور بجٹ میں اِس کی گنجائش رکھے۔اور جماعت کو بھی اس بات کی اجازت ہوگی کہ اگر وہ دیکھے کہ میری کوئی