خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 469
خطابات شوری جلد سوم ۴۶۹ مشاورت ۱۹۵۲ء ادا کر دیا جائے۔آئندہ جب تک یہ موٹر رہے رہے جب نیا موٹر خریدنے کی ضرورت محسوس ہو تو اسے بیچ کر جو روپیہ حاصل ہو وہ آمد میں ڈال دیا جائے اور جتنے روپیہ کی مزید ضرورت محسوس ہو اتنا روپیہ نئے موٹر کے لئے بجٹ میں رکھا جائے۔باقی موٹر کے جو ماہوار اخراجات ہیں مثلاً ڈرائیور کی تنخواہ ہے، مرمت ہے، پٹرول ہے، ٹیکس ہے، ان چیزوں کا بجٹ مناسب طور پر سب کمیٹی تجویز کر سکتی ہے مگر بہر حال یہ بجٹ پرائیویٹ سیکرٹری کے ماتحت رکھا جائے اور خلافت بجٹ میں اعانت کی ایک مدرکھ دی جائے اور تین ہزار روپیہ سالانہ اس کے لئے رقم رکھی جائے ضیافت والی مد اُڑا دی جائے اور کار کے اخراجات مثلاً تنخواہ ڈرائیور، پٹرول، مرمت، لائسنس اور بیمہ وغیرہ کے متعلق اندازہ کر کے ایک رقم معین کر دی جائے۔خلافت لائبریری چوتھی چیز جس پر میں زیادہ زور اور وضاحت سے کچھ کہنا چاہتا ہوں وہ خلافت لائبریری ہے تین ہزار روپیہ اسی مد میں لائبریری کے لئے میں نے رکھوایا تھا۔در حقیقت لائبریری خلافت کا کوئی ذاتی خرچ نہیں بلکہ انجمن کا خرچ ہے اس لئے میں کوئی وجہ نہیں سمجھتا کہ اس کو خلافت کے خرچ کے ماتحت رکھا جائے کیونکہ اس کا بھی حساب ہوتا ہے۔اور امداد مستحقین والے حصہ کو میں نے خلافت کے ماتحت اس لئے رکھا ہے کہ اس میں ایک قسم کا اخفاء ضروری ہے کیونکہ اس میں زیادہ تر یہی مدنظر ہے کہ وابستگان خلافت اور وابستگان جماعت کی امداد کی جائے اور ان کی دلجوئی کے لئے انہیں کچھ رقمیں دی جائیں اور اس قسم کی امداد کا ظاہر ہونا طبعا لوگ پسند نہیں کرتے اور گو اس صورت میں بھی بہت چھوٹی چھوٹی رقمیں ان کے حصہ میں آئیں گی مگر چونکہ عام طور پر طبائع پر اس قسم کی امداد کا اظہار گراں گزرتا ہے اس لئے خلافت کی مد ہی ایسی ہے کہ اس کے ماتحت بغیر دفتر میں سے گزرنے کے دوسرے کی امداد کے لئے رقم دی جاسکتی ہے اور اس شخص کی طبیعت پر بھی گراں نہیں گزرتا۔لیکن لائبریری کوئی پوشیدہ رہنے والی چیز نہیں وہ پرائیویٹ سیکرٹری کے ماتحت ہونی چاہئے اور گو اس کا نام خلافت لائبریری ہی ہوگا مگر باقی دفاتر کو بھی اس سے فائدہ اُٹھانے کا حق ہوگا۔لائبریری کی اہمیت لائبریری کے متعلق میرے نزدیک سلسلہ نے بہت بڑی غفلت برتی ہے لائبریری ایک ایسی چیز ہے کہ کوئی تبلیغی جماعت اس کے بغیر