خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 468

خطابات شوری جلد سوم ۴۶۸ مشاورت ۱۹۵۲ء مصلحت پوری ہو چکی ہے اور مناسب یہی ہے کہ اس مد کو اُڑا دیا جائے اور وہ مہمان نوازی کی مد ہے۔مہمان نوازی کی مد ہے تو ضروری لیکن میں سمجھتا ہوں اگر کسی شخص کو توفیق حاصل ہو تو اُس کے لئے کسی قسم کا روپیہ وصول کرنا طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔چنانچہ میں نے اس سال سے محسوس کیا ہے کہ ہر دعوت پر مجھے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے میں بھیک مانگ رہا ہوں۔اب اس پر ایک دفعہ عمل ہو گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خلفاء کے لئے اب یہ طریق عمل معیوب نہیں ہو سکتا۔اگر کوئی خلیفہ ایسا ہو کہ اُس کی ذاتی آمدنی اتنی قلیل ہو کہ اس کام کو چلانا اس کے لئے دوبھر ہو تو ایک سال تک اس مد کے جاری رہنے سے سنت پڑگئی ہے اور اگر آئندہ خلفاء کے لئے اس بارہ میں کوئی عار ہو سکتی تھی تو وہ ٹوٹ گئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم سے کم میرے لئے اس کا لینا بہت گراں گزرتا ہے اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ اس مد کو نکال دیا جائے۔صرف سلسلہ کے ایسے لوگوں کی امداد کے لئے جو پرانے خادم ہیں کچھ رقم ضرور ہونی چاہئے کیونکہ کئی ایسے مواقع پیش آ جاتے ہیں جب ضرورت ہوتی ہے کہ اُن کی دلجوئی کے لئے اور ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے کچھ مدد کی جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس غرض کے لئے صرف تین ہزار کی رقم اس سال کے لئے رہنے دی جائے۔باقی موٹر کے متعلق فنانس کمیٹی کے اصرار پر پچھلے سال جو فیصلہ کیا گیا تھا بعد میں غور کرنے پر میں نے سمجھا کہ وہ غلط طریق ہے در حقیقت ہونا یہ چاہئے کہ موٹر جب خریدا جائے تو اس کے لئے بجٹ میں گنجائش رکھی جائے اور جب پرانا موٹر بیچا جائے تو اس کی قیمت آمد میں شمار کی جائے۔یہ جو فیصلہ کیا گیا تھا کہ موٹر کی خرید کے لئے قرضہ لے لیا جائے اور ہر سال تین ہزار روپیہ اس قرض میں واپس کیا جائے بعد میں میں نے سمجھا کہ یہ طریق درست نہیں۔گزشتہ سال کے بجٹ میں سے صرف تین ہزار روپیہ موٹر کی خرید کے لئے لیا گیا تھا اور باقی روپیہ قرض لے لیا گیا تھا۔موٹر کے متعلق جیسا کہ چوہدری عبداللہ خان صاحب نے کہا تھا یہ ضروری تھا کہ ایسا موٹر خریدا جاتا جو زیادہ محفوظ ہوتا۔ان کا انداز ہ۲۲ ہزار روپیہ کا تھا مگر ہم نے سترہ ہزار میں موٹر خریدا۔تین ہزار موٹر کی مد میں سے نکال کر دیا گیا۔چھ ہزار بجٹ میں خرید موٹر کی قسط کے طور پر موجود تھا اور آٹھ ہزار امانت سے قرض لے کر ادا کر دیا گیا۔میری تجویز یہ ہے کہ موٹر کی خرید کے لئے جور قم قرض لے کر خرچ کی گئی ہے اس کو موجودہ بجٹ سے