خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 463

خطابات شوری جلد سو ۴۶۳ مشاورت ۱۹۵۲ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء ( منعقده ۱۱ تا ۱۳ / اپریل ۱۹۵۲ء) پہلا دن جماعت احمدیہ کی تینتیسویں مجلس مشاورت II۔اپریل ۱۹۵۲ء کو بعد نماز جمعہ لجنہ اماء اللہ دعا مرکز یہ ربوہ کے ہال میں شروع ہوئی۔تلاوت قرآن مجید کے بعد حضور نے احباب کو دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: - جیسا کہ شوریٰ کے ایجنڈے سے ظاہر ہے یہ اجلاس ہماری شوری کا تینتیسواں اجلاس ہے۔اور آج ہم اس لئے اس جگہ پر جمع ہوئے ہیں کہ تحریک جدید اور صدرانجمن احمدیہ کے سالا نہ میزانیوں پر غور کریں اور بعض اہم مسائل جو سلسلہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق بھی غور کر کے کسی نتیجہ پر پہنچیں۔اصل کا رروائی کے شروع کرنے سے پہلے میں حسب سنت و دستور دعا کروں گا احباب میرے ساتھ دعا میں شامل ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو صحیح طور پر غور کرنے اور صحیح نتائج پر پہنچنے کی تو فیق عطا فرمائے۔ہمارا کام بہت وسیع ہے لیکن ہمارے ذرائع بہت محدود ہیں۔ہماری ذمہ داریاں نہایت اہم ہیں لیکن ہمارے مزاج بہت سبک واقع ہوئے ہیں۔ہم اپنی تعلیم کی کمی کی وجہ سے یا تربیت کے نقص کی وجہ سے اہم چیزوں کو موقع پر اہم سمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔اور بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ ہمارا وقت بجائے صحیح طور پر خرچ ہونے کے ضائع ہو جاتا ہے۔اور ہماری طاقت منتشر ہو جاتی ہے۔پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو تمام امور کی صحیح اہمیت سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں موقع کے مناس