خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 464
خطابات شوری جلد سوم ۴۶۴ مشاورت ۱۹۵۲ء کام کرنے کی عقل اور ہمت بخشے تا کہ ہم ان تھوڑے سے تھوڑے سامانوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکیں جو کہ اس وقت ہمیں حاصل ہیں اور ہماری تدبیر اور اس سعی کے نتیجہ میں ہمارے سامان آنے والے گل میں آج سے زیادہ ہوں اور آنے والے پرسوں میں آنے والے کل سے زیادہ ہوں۔یہاں تک کہ جو ذمہ داریاں ہمارے سپرد کی گئی ہیں ہم اُن کو پورا کرنے کے قابل ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ ہماری باتیں باتیں ہی نہ ہوا کریں بلکہ وہ عمل کا پیش خیمہ ہوں اور ہماری فکر کھو ہی نہ ہوا کرے بلکہ وہ ایک سنجیدہ اور اٹل حقیقت ہو جس کے بعد دُنیا کا کوئی عزم اس کے آگے ٹھہر نہ سکے اور کوئی طاقت اس کو دبا نہ سکے۔ہماری مجالس کی ابتداء میں ہمیشہ دعا ہوتی ہے، آئندہ اس کے لئے میں ایک طریق مقرر کر دیتا ہوں۔ایک دعا افتتاح کے موقع پر تینوں دنوں میں ہوا کرے گی اور ایک دعا آخر میں شوری کے اختتام پر ہوگی۔گویا شوری کے تین دنوں میں چار دفعہ دعا ہو گی۔ایک دفعہ پہلے دن، پھر دوسرے دن، پھر تیسرے دن ابتداء میں اور پھر شوری کے اختتام پر۔اب میں دعا کرتا ہوں تمام احباب میرے ساتھ شریک ہو جائیں۔اس کے بعد میں پروگرام کے مطابق کارروائی شروع کروں گا۔“ دُعا سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد فرمایا: - کمیٹیوں کا تقرر جیسا کہ پروگرام میں لکھا ہوتا ہے اور جیسا کہ دستور چلا آتا ہے شوری کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے تھوڑی دیر کے لئے میں تقریر کیا کرتا ہوں لیکن آج میں اس طریق کو بدلنا چاہتا ہوں اور بجائے اس وقت تقریر کرنے کے جب سب کمیٹیوں کا انتخاب ہو جائے گا تو میں ان سب کمیٹیوں کے سامنے بعض باتیں بیان کروں گا جن پر میرے نزدیک سب کمیٹیوں کے غور کے وقت میں بھی اور آئندہ شوری کے اجلاس میں بھی ان پر غور کرنا ضروری ہے۔یہ طریق ایک مجبوری کی وجہ سے مجھے اختیار کرنا پڑا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے طریق عمل کے متعلق بعض تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔پس پہلے میں کمیٹیوں کے انتخاب کے لئے احباب سے مشورہ چاہتا ہوں۔یہاں کئی صیغوں کی طرف سے تجاویز پیش ہیں۔سب سے اہم چیز تو میزانیہ ہے صدر انجمن احمدیہ کا اور تحریک جدید کا،