خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 444
خطابات شوری جلد سوم ۴۴۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کام شروع کیا تو پھر میں بھی چندہ دے دوں گا ورنہ اب تو میں اس غرض کے لئے چندہ دینا گناہ سمجھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اُس نے آپ سے مسجد کے لئے کچھ چندہ مانگا آپ نے گھر جا کر مجھے ایک چوٹی دی اور فرمایا یہ اُس کو دے آؤ۔میں وہ چوٹی اُس کے پاس لے گیا تو وہ دیکھ کر کہنے لگا یہ تو کھوٹی ہے۔میں نے واپس جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے سن کر فرمایا اَلْحَمْدُ لِله یہ کھوٹی نکلی۔میرے دل میں پہلے ہی خلش تھی کہ یہ لوگ نماز تو پڑھتے نہیں اور مسجد میں بنواتے پھرتے ہیں میرا چندہ دینا کہیں گناہ نہ ہو۔پھر آپ نے فرمایا امام ابو حنیفہ سے بھی ایک دفعہ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اُن سے بھی کسی نے مسجد کے لئے چندہ مانگا تو آپ نے ایک درہم دے دیا مگر وہ کھوٹا نکلا۔اُس نے درہم واپس کیا تو آپ نے فرمایا میرے دل میں پہلے ہی یہ خیال آرہا تھا کہ میں نے چندہ دے کر غلطی کی ہے سوا چھا ہوا کہ وہ کھوٹا نکل آیا۔اس طرح مجھ سے بھی اگر کوئی نشر واشاعت کے لئے چندہ مانگے تو میں ایک چوٹی دینا بھی گناہ سمجھتا ہوں لیکن اگر ان لائنوں پر کام کیا گیا تو پھر میں بھی چندہ دے دیا کروں گا اور اگر دوسرے لوگوں نے بھی چوٹی چوٹی دی تو کئی ہزار روپیہ اکٹھا ہو جائے گا مگر یہ نہ ہو کہ پہلی کمیٹی کی طرح چھ ماہ کے بعد یہ کہ دیا جائے کہ ہمیں تو آج پتہ لگا کہ میں ایسی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی گئی تھی۔نئی تعمیرات کے متعلق ہدایات نئی عمارتوں کے متعلق بھی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں میرے نز دیک بجٹ میں صرف ” تعمیر مرکز پاکستان“ کے الفاظ لکھ دینے کافی نہیں تھے بلکہ عمارتوں کی تفصیل بھی دینی چاہیے تھی تا کہ لوگوں کو پتہ لگتا کہ ہمارے سامنے کتنا بڑا کام ہے اور ہم نے اپنی جد و جہد کو کتنا تیز کرنا ہے۔مثلاً اگر مجھ سے کام لینا ہے تو مجھے مکان بھی دینا پڑے گا۔اسی طرح میری بیویوں کے لئے مکان بنانا پڑے گا۔حضرت اماں جان ) کے لئے مکان بنانا پڑے گا بلکہ جیسے حضرت عمر نے کہا تھا کہ پہلا آٹا حضرت عائشہ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا اسی طرح آپ لوگوں کا فرض ہو گا کہ پہلے حضرت اماں جان ) کو مکان دیں اور پھر دوسروں کے مکان بنائیں۔