خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 439

خطابات شوری جلد سوم ۴۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اُس پر سزا دے۔پس اگر کسی صاحب کے پاس آئندہ کوئی ایسا خط پہنچے تو وہ صدر انجمن احمدیہ کے پاس شکایت کریں کہ میں چندہ ادا کر چکا ہوں مگر مجھے پھر یاد دہانی کا خط آگیا ہے۔اگر صدرانجمن احمد یہ اُس پر توجہ نہ کرے تو پھر میرے پاس شکایت کی جائے۔علاوہ اس کے کہ اس طرح سلسلہ کا خرچ زیادہ ہوتا ہے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے کارکن محنت نہیں کر رہے۔جس طرح اخبار روزانہ خریداروں کو بھیجا جاتا ہے اسی طرح اگر بعض لوگوں کی طرف سے وصیت کا چندہ نہیں آتا تو تمام موصیوں کو چٹھیاں چلی جاتی ہیں قطع نظر اس کے کہ اُن میں سے کون کون چندہ ادا کر چکا ہے اور کس کس نے ادا نہیں کیا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جماعت کے دوست پریشان ہوتے ہیں کہ ہم تو چندہ بھجوا چکے تھے معلوم ہوتا ہے کوئی کھا گیا ہے۔مالی حالت درست کرنے کا ایک طریق اس وقت چونکہ بجٹ پر عام بحث کی گئی ہے اس لئے میں بھی اسی سلسلہ میں ایک امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ہمارے بجٹ میں جہاں دینی امور کے اخراجات شامل ہیں وہاں بعض دنیوی باتیں بھی شامل ہیں۔مثلاً ہم نے کالج کھولا ہوا ہے یہ ہمارے کاموں کا دنیوی حصہ ہے۔ہم نے سکول کھولے ہوئے ہیں یہ بھی دنیوی حصہ ہے پس جب ہم بعض دنیوی کاموں کی طرف متوجہ ہیں اور اپنا روپیہ اُن پر صرف کر رہے ہیں تو ہمیں بعض اور مفید کاموں کی طرف بھی جو بظاہر دینوی ہیں توجہ کرنی چاہیے تا کہ ہماری جماعت کی مالی حالت مضبوط ہو۔میں دیکھتا ہوں کہ ملک کے حالات بدل رہے ہیں اور آئندہ ترقی کی بنیا د صنعت و حرفت پر رکھی جانے والی ہے۔لوہار اور ترکھان یہ دو پیشے ایسے ہیں جن پر آئندہ صنعت و حرفت کی بنیاد ہوگی۔آگے ان کی بھی قسمیں ہیں۔مثلاً ڈرائیور اور فٹر وغیرہ یہ بھی بہت ضروری ہیں۔اسی طرح اقتصادی لحاظ سے معمار اور درزی بھی ایک اہم حصہ ہیں۔اس وقت ایسٹ افریقہ میں اس قسم کے پیشہ وروں کی سخت ضرورت ہے اور وہاں تین چارسو شلنگ چھوٹی سے چھوٹی تنخواہ ہے جو دی جاتی ہے اب سکے کی قیمت کچھ گر گئی ہے لیکن پھر بھی تین چارسو شلنگ کے معنے دوسور و پہیہ کے قریب تنخواہ ہے اور یہ وہاں کی چھوٹی سی چھوٹی تنخواہ ہے ورنہ اس قسم کے