خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 438
خطابات شوری جلد سوم دو ۴۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء صد را منجمن احمد یه ۱۵ جنوری تک فائنل بجٹ مرتب کر کے ناظر صاحب بیت المال کو شائع کرنے کے لئے دے دیا کرے۔اگر ایسا نہ ہو تو اگلی مجلس شوری میں ایک سب کمیٹی مقرر کی جائے جو یہ تجویز کرے کہ ناظروں کو کیا سزادی جائے“۔قابل گرفت غلطی حافظ فیض صاحب نے جو باتیں بیان کی ہیں اُن میں سے بعض کا جواب تو اُنہیں مل گیا ہے لیکن ایک بات جس کا جواب میں نے ناظر صاحب سے کہا تھا کہ دیں مگر اُنہوں نے نہیں دیا میرے نزدیک وہ درست ہے اور میرے گھر کا تجربہ بھی اُس کی تصدیق کرتا ہے۔میری بیویاں مجھ سے کئی دفعہ شکایت کرتی ہیں کہ فلاں مہینہ میں ہم نے چندہ ادا کر دیا تھا مگر اب دفتر کی طرف سے اُس کے متعلق پھر یاد دہانی آگئی ہے۔اس کی وجہ دراصل یہ معلوم ہوتی ہے کہ یاددہانیوں کے وقت عموماً دفاتر کے کارکن سب کو چٹھیاں بھجوا دیتے ہیں اور دفتری ریکارڈ سے یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتے کہ کس کس نے چندہ دے دیا ہے؟ کسے چٹھی بھجوانی چاہیے اور کسے نہیں بھجوانی چاہئیے۔اس سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے، نہ صرف سلسلہ کا روپیہ ضائع ہوتا ہے بلکہ اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ در حقیقت عقل سے کام نہیں لیا جاتا اور محنت سے جی چرایا جاتا ہے اس کے متعلق بھی آئندہ میں یہ قاعدہ تجویز کرتا ہوں کہ :- و جس شخص کے پاس ایسا خط پہنچے وہ صدر انجمن احمدیہ کے پاس شکایت کرے اور صد را منجمن احمد یہ متعلقہ کارکن کو سزا دے۔“ اب میں نے یہ قاعدہ بنا دیا ہے کہ کوئی غلطی بغیر سزا کے نہ رہے۔اس قاعدہ کے ماتحت اس قسم کی غلطی بھی قابل گرفت ہو گی۔پہلے اس طرح ہوا کرتا تھا کہ میرے پاس شکایت پہنچتی اور میں اُس پر گرفت کرتا تو صدر انجمن احمد یہ کہتی بڑے افسوس کی بات ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔دوسرے مہینے پھر وہی غلطی کی جاتی۔تیسرے مہینے پھر وہی غلطی کی جاتی۔بلکہ بعض دفعہ وہی غلطی دو ہزار دفعہ کی جاتی ہے اور ہر دفعہ صدرانجمن احمد یہ یہی کہہ دیتی کہ بڑے افسوس کی بات ہے آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔اب میں نے کہا ہے کہ چاہے ناظر غلطی کرے یا کوئی اور صدرانجمن احمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اُس غلطی کو معین کرے اور پھر