خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 437

خطابات شوری جلد سوم ۴۳۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء اس بات کو بھول جائیں کہ میں جلال الدین شمس ہوں بلکہ وہ سمجھیں کہ میں صدرانجمن احمد یہ کا سر ہوں۔عبدالسلام اختر اس بات کو بُھول جائیں کہ میں عبدالسلام اختر ہوں بلکہ وہ سمجھیں کہ میں صدر انجمن احمدیہ کا ہاتھ ہوں اور جب اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو تو وہ اپنی اس قانونی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے لئے خود سزا تجویز کریں تو یقیناً ایک سال کے اندراندر اُن کی اصلاح ہو جائے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ گورداسپور میں ایک نیم پاگل انگریز ڈپٹی کمشنر آ گیا وہ بعد میں گورداسپور سے محض اس لئے تبدیل کیا گیا کہ میرے ساتھ لڑ پڑا تھا اور وزیر ہند مسٹر مانٹیگو نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا یہ پہلی سزا ہے جو ایک ہندوستانی سے لڑائی کرنے کی وجہ سے ایک انگریز کو دی گئی اور اُسے ڈی گریڈ کیا گیا۔وہ نیم پاگل سا تھا ایک دن سیشن جج کے ہاں اُس کی دعوت تھی وہ وہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک لاری آئی جس پر پٹرول رکھا ہوا تھا۔سیشن جج نے وہ پٹرول اُتروا کر اپنی کوٹھی میں رکھوا لیا۔اُن دنوں قانون کے مطابق وہ لائسنس کے بغیر کچھ پڑول تو رکھ سکتا تھا مگر اُس کا پٹرول زیادہ تھا اور پھر یہ پٹڑول لائسنس والی جگہ میں ہی رکھا جاسکتا تھا کسی دوسری جگہ نہیں۔جب پڑول آیا تو وہ ڈپٹی کمشنر ہنستے ہوئے کہنے لگا آپ نے اس کا لائسنس لیا ہے؟ وہ کہنے لگا میں نے تو نہیں لیا۔سیشن جج نے کہا کہ تمہارے ہاں بھی تو پرسوں پٹرول آیا تھا۔اُس نے کہا ہاں آیا تھا مگر میں نے اُسی وقت ڈی سی کے حضور درخواست دے دی اور اُن کی منظوری حاصل کر لی یعنی خود ہی اپنے نام درخواست لکھی کہ مجھے اتنے گیلن پٹرول رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی جائے اور خود ہی اُس پر لکھ دیا منظور پھر کہنے لگا میں تمہارے خلاف باقاعدہ کورٹ میں کیس پیش کروں گا۔اب یہ ہے تو بظاہر جنسی کی بات کہ خود ہی اپنے نام درخواست لکھی جائے اور خود ہی اُسے منظور کرلیا جائے لیکن اگر اسی رنگ میں ذمہ دار عہد یدار اپنے آپ کو سزا دینے کی عادت اختیار کر لیں تو یقیناً اُن کی اصلاح ہو جائے۔ہماری یہ اکتیسویں مجلس مشاورت ہے اتنا لمبا عرصہ گزر چکا ہے مگر اب تک ہمارے ناظروں کی اصلاح نہیں ہوئی اور اُنہوں نے کبھی بھی اپنے بجٹ کو صحیح وقت پر پیش کرنے کی کوشش نہیں کی۔آئندہ کے متعلق میں یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ :-