خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 436
خطابات شوری جلد سوم ۴۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء تو کراسکتی ہے اور اُس کے پاس سب ذرائع موجود ہیں۔کیا صدرانجمن احمد یہ اُن ناظروں کو جرمانہ نہیں کر سکتی جو متواتر سالہا سال سے غفلت سے کام لے رہے ہیں اور کبھی بھی وقت پر اپنا بجٹ بنا کر پیش نہیں کرتے۔مگر سوال یہ ہے کہ صدرانجمن احمد یہ جرمانہ کس کو کرے؟ اصل میں تو وہی بات ہے کہ آپے میں رجی پجی آپے میرے بچے جیون“۔بجٹ ناظروں نے تیار کرنا ہوتا ہے۔اب سید ولی اللہ یہ کس طرح فیصلہ کریں کہ سید ولی اللہ کی ایک ماہ کی تنخواہ بطور جرمانہ ضبط کی جاتی ہے کیونکہ ۲۵ سال ہو گئے ہیں سید ولی اللہ نے کبھی بھی اپنے بجٹ کو صحیح وقت پر پیش نہیں کیا۔قاضی عبداللہ یہ کس طرح فیصلہ کریں کہ قاضی عبداللہ کی ایک ماہ کی تنخواہ بطور جرمانہ ضبط کی جاتی ہے کیونکہ ۲۵ سال ہو گئے قاضی عبداللہ نے کبھی بھی اپنے بجٹ کو صحیح وقت پر پیش نہیں کیا۔شمس صاحب یہ کس طرح فیصلہ کریں کہ مولوی جلال الدین شمس صاحب کی ایک ماہ کی تنخواہ بطور جرمانہ ضبط کی جاتی ہے کیونکہ متواتر اور بار بار کہنے کے باوجود انہوں نے اپنے بجٹ کو ایک دفعہ بھی کبھی وقت پر پیش نہیں کیا پس آپے میں رجّی پُجی آپے میرے بچے جیون “۔سزا ملتی تو اصلاح ہو جاتی مگر چونکہ سزا خود اپنے آپ کو دینی پڑتی ہے اس لئے نہ انہیں سزا ملتی ہے اور نہ اُن کی اصلاح ہوتی ہے۔صدرانجمن احمد یہ در حقیقت ناظروں کے مجموعہ کا نام ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ یوں کہہ لو کہ صدر انجمن احمد یہ نام ہے اُن لوگوں کا جو کبھی بھی بجٹ کو وقت پر تیار کرنے کا نام نہیں لیتے۔اب کسی کو تم کہو کہ اپنے آپ کو سزا دے تو کیا وہ کبھی اپنے آپ کو سزا دے گا ؟ وہ تو کہے گا کہ میں بالکل بری ہوں۔یہی حال ناظروں کا ہے۔اگر وہ سمجھتے کہ جس طرح ہمارا ایک ذاتی وجود ہے اسی طرح ہمارا ایک قانونی وجود بھی ہے ذاتی لحاظ سے ہماری اور حیثیت ہے اور قانونی لحاظ سے اور حیثیت ہے تو اُن کی کب کی اصلاح ہو چکی ہوتی۔جہاں تک اُن کی ذاتی حیثیت کا سوال ہے وہ ولی اللہ ، جلال الدین شمس صاحب ، قاضی عبد اللہ صاحب، عبد السلام صاحب اور بابومحمد عبداللہ صاحب وغیرہ ہیں لیکن قانونی لحاظ سے وہ صدر انجمن احمدیہ کے مختلف اعضاء ہیں اور اُن کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس قانونی حیثیت کو اپنے سامنے رکھیں۔سید ولی اللہ بھول جائیں اس بات کو کہ میں ولی اللہ ہوں بلکہ وہ سمجھیں کہ میں صدر انجمن احمدیہ کی اُنگلی ہوں۔جلال الدین شمس صاحب