خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 434
خطابات شوری جلد سو ۴۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء بیان کی جاسکتی ہیں لیکن ایک بڑے گروہ کے سامنے بیان نہیں کی جاسکتیں۔اگر وہ دوست جنہوں نے بجٹ کے متعلق اس وقت اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے سب کمیٹی کے سامنے جاتے اور اُسے بتاتے کہ اُن کے نزدیک بجٹ میں فلاں فلاں خامیاں ہیں جن کو دور کرنا چاہیے یا فلاں مد میں کمی ہونی چاہیے یا فلاں جگہ زیادتی ہونی چاہیے تو اس طرح بجٹ پر زیادہ بہتر رنگ میں غور ہو سکتا۔فیصلہ پس اگر کوئی پرانا قانون اس کے خلاف نہیں تو آئندہ کے متعلق میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ وہ سب کمیٹی جو بجٹ پر غور کرنے کے لئے مقرر کی جائے اُن امور پر بھی غور کر لیا کرے جو مختلف لوگوں کی طرف سے اُس کے سامنے پیش کئے جائیں اور اگر قانو نا اس میں کوئی روک ہو تو صدرا مجمن احمدیہ کو چاہیے کہ اُس روک کو دور کرنے کی تجویز کرے تا کہ جس طرح نظارتوں کے نمائندے سب کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اسی طرح بیرونی جماعتوں کے نمائندے بھی سب کمیٹی میں جاسکیں اور اُن کی باتوں پر غور ہو سکے۔لیکن یہ ضرور ہے کہ سب کمیٹی بجٹ شوری کے اجلاس سے کچھ وقت پہلے اپنی کا رروائی ختم کرے اور اپنی سفارشات کی جو صدرانجمن احمدیہ کی سفارشات کے خلاف ہوں نقل صدر انجمن احمدیہ کو بھجوا دے جو فوراً اپنے اجلاس میں اُن کے بارہ اپنی رپورٹ پیش کر دے جو سب کمیٹی کی رپورٹ کے بعد دوستوں کی اطلاع کے لئے شوری میں پڑھ کر سنائی جایا کرے۔ایک سوال کا جواب اب میں اُن دوسری تجاویز کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو مختلف احباب کی طرف سے پیش کی گئی ہیں۔بعض کا جواب ناظر صاحب بیت المال نے دے دیا ہے مگر بعض کا نہیں دیا۔ایک اعتراض مرزا ناصر احمد کی طرف سے تھا جس کا جواب ناظر صاحب نے یہ دیا ہے کہ میں صرف چند دنوں کے لئے ناظر بنا ہوں اِس لئے میں اس بارہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔یہ درست ہے کہ وہ عارضی طور پر ناظر مقرر کئے گئے ہیں مگر یہ سوال ایسا تھا جس کا نظارت کی طرف سے جواب دیا جانا ضروری تھا۔اگر ناظر صاحب بیت المال بوجہ نئے ہونے کے اس کا جواب نہیں دے سکتے تھے تو ناظر صاحب اعلیٰ کا فرض تھا کہ وہ اس کا جواب دیتے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔مرزا ناصر احمد صاحب