خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 431
خطابات شوری جلد سوم ۴۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء حضرت یعقوب علیہ السلام کی والدہ کو یہ احساس تھا کہ بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے عیسو نبوت کا درجہ لے جائے گا اس لئے وہ اس ٹوہ میں رہتی تھی کہ کسی طرح یہ حق اپنے بیٹے یعقوب کو لے کر دے۔ایک دن یعقوب نے مسور کی دال پکائی عیسو کا دال کھانے کو جی چاہا اُس نے یعقوب کو بلا کر کہا مجھے دال کھلا یعقوب نے کہا مجھے اپنا پلوٹھا ہونے کا حق دے دے تب میں تجھے دال دوں گا۔عیسو کا بچپن بھی تھا اور یہودیوں کے نزدیک اُس کا معیار اخلاق بھی اعلیٰ نہیں تھا اُس نے کہا دال تو نقد بہ نقد مل رہی ہے نبوت پتہ نہیں کب ملے اس لئے اُس نے نبوت کا حق یعقوب کو دے دیا اس پر یعقوب نے اُسے مسور کی دال دی اور اُس نے کھائی۔جب حضرت اسحق علیہ السلام بیمار ہو گئے تو آپ نے اپنے بڑے بیٹے عیسو کو کہا عیسو آؤ میں تمہیں دعا دوں کہ خدا تعالیٰ تمہیں میرا وارث روحانی بنائے اور تمہیں نبوت کا رتبہ حاصل ہو۔عیسو شکار کے لئے جنگل میں چلا گیا تا دعا لینے سے پہلے اپنے باپ کے لئے لذیذ کھانا تیار کرے۔یعقوب کی والدہ سن رہی تھی اُس نے یعقوب کو بلایا اور انہیں ایک دنبہ ذبح کر دیا اور اُس کی کھال انہیں پہنا دی یعقوب اپنے باپ الحق کے پاس گئے اور عیسو کی آواز میں کہا اے باپ! تُو مجھے دل سے دعا دے اسحق نے گوشت کھا کر کہا بیٹا! قریب آؤ۔جب وہ قریب آیا تو اسحق نے اُس کے بدن کو ٹولا۔اسحق نے دیکھا کہ آواز تو یعقوب والی ہے مگر بدن عیسو والا نہیں عیسو کے بدن پر بال تھے اور یعقوب کے بدن پر بال نہ تھے اس لئے یعقوب کی والدہ نے انہیں دنبے کی کھال پہنا دی تھی حضرت اسحق علیہ السلام نے یعقوب کو دعا دے دی کہ خدا تعالیٰ انہیں اُن کا روحانی وارث بنائے اور نبوت کا درجہ عطا کرے تب عیسو شکار لے کر آیا اور کھانا پکا کر باپ کے پاس لے گیا اور کہا اے باپ مجھے برکت دے۔الحق نے کہا تیرا بھائی یعقوب آیا تھا اور دھوکا سے وہ تیری برکت لے گیا ہے۔عیسو نے کہا یعقوب پہلے بھی میرا حق لے گیا تھا اور اب بھی اُس نے میرے حق کو دھوکا سے حاصل کر لیا ہے۔" اس واقعہ میں یہی بتایا گیا ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کرنا اور اُن کی خاطر قربانی کرنا بڑی اہمیت رکھتا ہے۔بعض بیوقوف اپنے بڑے بڑے حقوق کو تھوڑے سے لالچ کی خاطر