خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 427
خطابات شوری جلد سوم ۴۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء تو یہی ہے کہ آمد بڑھے لیکن اس چیز کا احساس بہت کم ہے۔قادیان سے نکلنے پر بیعت اُس معیار پر نہیں رہی جس پر وہ پہلے تھی اب کچھ ترقی ہو رہی ہے لیکن ہمیں اس سے دس ہیں گئے زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔اب حالت یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں جماعت زیادہ بڑھ رہی ہے اور پاکستان میں کم بڑھ رہی ہے بنیادیں چوڑی ہوتی ہیں تو دیوار بڑی ہوتی ہے۔مرکز بنیاد ہوتا ہے مرکز کی مضبوطی کی زیادہ ضرورت ہے اب پاکستان جماعت کا مرکز ہے۔پاکستان میں نسبتی طور پر جماعت زیادہ ہونی چاہیے اور اس کے چندے بھی زیادہ ہونے چاہئیں تاہم بیرونی ملکوں کی جماعتوں کو کہ سکیں کہ ہم تم پر خرچ کرتے ہیں۔اب حالت یہ ہے کہ جب نئے احمدی ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ہم تم پر خرچ کیوں کریں۔لحاظ اور ادب کی وجہ سے وہ مجھے نہیں لکھتے مقامی مبلغ کو کہتے ہیں۔میں اُس مبلغ کو یہی لکھتا ہوں کہ وہ انہیں سمجھا دے کہ اب تک پاکستان نے تم پر خرچ کیا ہے اگر یہ اصل ٹھیک ہے کہ آپ کو ہم پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے تو پاکستان کو آپ پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ قدرتی بات ہے کہ خواہ کوئی دینی بات ہو یا دنیوی انسان دوسرے کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔قرآن کریم میں ایک بزرگ ہستی کا ذکر آتا ہے جسے ہم جبرائیل سمجھتے ہیں لیکن دوسرے لوگ خضر کہتے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کی اطاعت سے گریز اختیار کیا حالانکہ وہ آپ سے کوئی جائداد حاصل کرنا نہیں چاہتے تھے صرف دل پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔اسی طرح دنیا ہماری طاقت کو تسلیم نہیں کرتی جب تک ہم اس کے لئے کوئی مادی ذریعہ بھی اختیار نہ کریں اور وہ ذریعہ یہی ہے کہ ہم کہیں ہم نے روپیہ خرچ کر کے آپ کو ہدایت دی ہے اس پر وہ اپنی نظریں نیچی کر لیں گے اور ہماری فوقیت کا اعتراف کریں گے۔جب ملک میں نئے طور پر کوئی حکومت قائم ہوتی ہے تو اُس کے رہنے والے اسی لئے اس حکومت کو برداشت کرتے ہیں کہ وہ اپنے پاس سے اُن پر خرچ کرتی ہے۔جتنی امپیرلزم ہوتی ہیں اُن کا ابتدائی حصہ یہی ہوتا ہے کہ پیرنٹ باڈی (parent body) خرچ کرتی ہے اور دوسرے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔اور جب تک وہ حکومت خرچ کرتی چلی جاتی ہے لوگ اُس کے مطیع رہتے ہیں لیکن جب وہ خرچ کرنا