خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 28
خطابات شوری جلد سوم ۲۸ مشاورت ۱۹۴۴ء میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ آئندہ تین سال تک بغیر منظوری مرکز غیر احمدی لڑکی سے شادی نہ کی جائے۔اس کے بعد اس فیصلہ میں ہر تین سال کے بعد توسیع ہوتی رہی۔اب آخری فیصلہ کا تیسرا سال گزر رہا ہے۔لہذا اس معاملہ کو مزید فیصلہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔“ حضور نے فرمایا۔”جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں وہ اپنے نام لکھوا دیں۔“ اس پر چند ممبران نے اپنے نام لکھوائے اور اپنی آراء پیش کیں۔اس کے بعد حضور نے فرمایا: - اس کے متعلق تین ترامیم پیش ہوئی ہیں۔ایک یہ کہ ہر سال اس کے متعلق فیصلہ ہوا کرے۔دوسرے یہ کہ تین سال کے بعد۔اور تیسرے یہ کہ پانچ سال کے بعد۔تین سال کے بعد پیش ہونے کا تو پہلے قاعدہ ہے ہی۔دو ترامیم رہ جاتی ہیں۔دوستوں نے مختلف قسم کے خیالات سُن لئے ہیں۔یہ مسئلہ بار بار جماعت کے سامنے آتا رہا ہے۔اور اس کے فوائد اور نقائص اچھی طرح سامنے آچکے ہیں۔فائدہ اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ غیر احمدیوں کے ہاں شادی کرنے سے نئے خاندانوں سے تعلقات قائم ہوتے ہیں اور تبلیغ کا رستہ کھل جاتا ہے۔نقصان یہ ہے کہ احمدی لڑکوں کے غیر احمدیوں کے ہاں رشتے ہو جانے سے احمدی لڑکیوں کے لئے رشتے ملنے مشکل ہو جاتے ہیں۔یہ دونوں نقطہ ہائے نگاہ ہیں جو جماعت کے سامنے ہیں۔جماعت نے کثرت رائے سے فیصلہ کیا تھا کہ یہ پابندی لگا دی جائے کہ تین سال تک بغیر اجازت غیر احمدی لڑکی سے شادی نہ کی جائے۔اب ایک دوست نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ تیسرے سال یہ سوال اٹھانا درست نہیں بلکہ اس پابندی کو دس سال تک ممتد کر دیا جائے۔بعض مجبوریاں بھی پیش آسکتی ہیں۔مثلاً احمدیت میں داخل ہونے سے قبل کے بعض رشتے کئے ہوئے ہوتے ہیں اُن کو چھوڑ دینے سے لوگوں پر بُرا اثر پڑتا ہے اور بلا وجہ لوگوں پر بُرا اثر نہ ڈالنا چاہئے۔پھر ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر کسی با اثر خاندان میں شادی کر لی جائے تو آہستہ آہستہ وہ لوگ قریب آجاتے ہیں اور تبلیغ کا رستہ گھل جاتا ہے اس لئے اجازت لے کر شادی کر لینے کا رستہ کھلا رہنا چاہئے۔عام اجازت اس لئے نہیں ہونی چاہئے