خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 422

خطابات شوری جلد سوم ۴۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء چالیس ایکڑ تھی اور رستوں کو نکال لیا جائے تب بھی وہ زمین قریباً ۲۰۰ کنال تھی۔اس طرح صرف سکول کے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے جماعت کو ڈیڑھ دو کروڑ کا نقصان پہنچا ہے اور یہ ہمارے بس کی بات نہیں تھی جو کچھ ہوا خدا تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت ہوالیکن کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ان سب چیزوں کو جماعت کے سامنے لانا چاہیے۔آخر وہ زمینیں اور عمارتیں جو ہم وہاں چھوڑ آئے ہیں کسی تماشا کے لئے تو نہیں تھیں، کسی میں ہمارا مہمان خانہ تھا کسی میں ہمار ا سکول تھا اور کسی میں ہمارا کالج تھا۔اور پھر وہ بنائی اس لئے گئی تھیں کہ اُن کے بنانے کی ہمیں ضرورت تھی اور اگر اُن کے بنانے کی ہمیں ضرورت تھیں تو وہ اب بھی بنانی پڑیں گی۔گویا ان عمارتوں کے ہاتھ سے جانے کا ہی سوال نہیں اُن کے دوبارہ بنانے کا بھی سوال ہے اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جنہیں جماعت کے سامنے لانا چاہیے۔احمق بے شک کہے کہ یہ عمارتیں اب نہیں بنانی چاہئیں لیکن ہم نے یہ سب عمارتیں دوبارہ بنانی ہیں۔آخر وہ تعیش کا سامان تو نہیں تھے کہ کہہ دیا جائے چلوسینما ہاتھ سے چلا گیا ہے آئندہ ہم سینما نہیں دیکھیں گے۔ہم نے جو جگہیں چھوڑی ہیں وہ دینی جگہیں تھیں ، سکول تھے ، کالج تھے، لائبریریاں تھیں، پر لیس تھے ہم احمدیت کے جسم کی روح چھوڑ آئے ہیں اور اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔یہ سب چیزیں ہمیں دوبارہ بنانی پڑیں گی اور ان پر ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ خرچ آئے گا اور جب تک ہم ان باتوں کو پوری طرح ذہن نشین نہ کرلیں گے کام نہیں بنے گا۔جس طرح ایک شخص کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو وہ شور مچاتا ہے کبھی وہ کسی ناظر کو خط لکھتا ہے اور کبھی مجھے خط لکھتا ہے اسی طرح ان باتوں کو جماعت مد نظر رکھتی تو اُسے شور مچا دینا چاہیے تھا کہ ہمیں سکول چاہئیں ، کالج چاہئیں ، آخر ہم بچوں کو پڑھا ئیں تو کہاں پڑھائیں۔یہ شور ہماری طرف سے نہیں ہونا چاہیے تھا جماعت کی طرف سے ہونا چاہیے تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا کالج لاہور میں ہے لیکن ایک تو وہ ہماری اپنی عمارت نہیں گورنمنٹ کا جب جی چاہے ہمیں وہاں سے نکال سکتی ہے اور پھر ماحول اپنا نہیں جس کی وجہ سے قدم غلط مشورہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔مثلاً کالج کا رسالہ ہے اُس میں عشق ومحبت کے خطوط چھپتے ہیں اور ایسی تصویریں چھپتی ہیں جن کو دیکھ کر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ