خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 419
خطابات شوری جلد سوم ۴۱۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء باتوں کو چھپاتے ہیں اور مرکز کو صحیح حالات سے اطلاع نہیں دیتے۔عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص اُن کی خوشامد کر دیتا ہے تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں اور اُس فرض کو بھول جاتے ہیں جو سلسلہ کی طرف سے اُن پر عائد ہوتا ہے اس نقص کا ازالہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ آئندہ زیادہ سختی سے کام لیا جائے اور امیروں اور پریذیڈنٹوں کو بھی ذمہ دار سمجھا جائے تالڑکیوں کے لئے رشتہ نہ ملنے کی مشکل دور ہو۔کتنے اندھیر کی بات ہے کہ بعض خاندانوں کی لڑکیاں غیر احمدیوں میں بیاہی جاتی ہیں مگر وہاں کی جماعتیں چپ کر کے بیٹھی رہتی ہیں اور کبھی مرکز میں رپورٹ نہیں کرتیں۔یہ نتیجہ ہے مقامی جماعتوں اور افسروں کی کوتا ہی کا۔جہاں مقامی جماعتیں ذرا بھی ہوشیار ہوں وہاں اس قسم کے فتنے پیدا نہیں ہوتے اور اگر ہوں تو رک جاتے ہیں۔پس اپنے تجربہ کی بناء پر میں سمجھتا ہوں کہ اس تجویز کو مجلس میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ کارروائی میں زیادہ سختی سے کام لیا جائے۔میں نے دیکھا ہے ہماری جماعت میں بڑی کثرت سے ایسے کیس ہوتے ہیں کہ فلاں نے اتنا قرضہ لیا تھا مگر اب تک اُس نے ادا نہیں کیا اور جب قرضہ مانگا جاتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ مقدمہ کر دو۔ابھی پچھلے دنوں ایک شخص کے متعلق اسی قسم کے کیس میں کارروائی کی گئی۔اس پر چند دنوں کے اندر اندر ہی اُس نے سارا رو پید ادا کر دیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگوں میں ایمان تو ہے مگر انہیں عادت پڑ گئی ہے کہ جب تک اُن پر سختی نہ کی جائے وہ اپنے فرض کو نہیں پہچانتے۔لوگوں کے سینکڑوں روپے دبا کر بیٹھ جاتے ہیں اور اُن کے دلوں میں یہ احساس تک پیدا نہیں ہوتا کہ اُس روپیہ کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔لیکن جہاں سختی کی جاتی ہے رو پید ادا کر دیتے ہیں کیونکہ دل میں ایمان ہوتا ہے اور وہ اس ایمان کے لئے اپنی قوم کو چھوڑ کر ادھر آئے ہوئے ہوتے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ اس طرف بھی اُن کی عزت نہیں رہی تو وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔باقی جیسا کہ میں نے ایک شوری کے موقع پر بھی بیان کیا تھا کسی غیر احمدی لڑکی سے شادی کرنے کے متعلق اگر مرکز میں کوئی درخواست آئے تو اگر وہاں کی احمدی لڑکیوں کے رشتہ میں مشکلات پیدا ہونے کا ڈر نہ ہو یا یہ خطرہ نہ ہو کہ لڑکا غیر احمدیوں کے زیر اثر آجائے گا تو عموماً ایسی اجازت