خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 415

خطابات شوری جلد سوم ۴۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ملنے کے لئے آئی ہیں اور مجھے یہ معلوم کر کے انتہائی افسوس ہوا ہے کہ مقامی جماعتیں اس معاملہ میں سخت غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔پچھلے ایام میں میں پشاور گیا تھا وہاں ایک دن میری بیوی نے کہا کہ ایک احمدی لڑکی آئی ہے اور وہ اصرار کرتی ہے کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں، چونکہ میں نے کہا ہوا ہے کہ جب کوئی عورت آئے تو پہلے اُس سے پوچھو کہ کیا بات ہے اور پھر اگر خود اُس کی ضرورت کو پورا کرسکتی ہو تو کر دو اور اگر مجھ تک بات پہنچانی ضروری ہو تو مجھے پہنچا دو، اس لئے میری بیوی نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا کام ہے ؟ اُس نے جواب دیا کہ میں خود مل کر بات کرنا چاہتی ہوں۔پھر میری بیوی کہنے لگیں کہ وہ تو آپ کی خوب واقف ہے اور کہتی ہے کہ مجھے وہ گودیوں میں کھلاتے رہے ہیں۔میں نے کہا ، ہوگا ،مگر مجھے یاد نہیں آتا کہ وہ کس کی لڑکی ہے۔غرض اس طرح وہ دو تین دفعہ آئیں اور اُنہوں نے کہا کہ وہ ایک افسر کی بیوی ہے اور آپ سے ملنا چاہتی ہے۔آخر میں نے کہا اُسے لے آؤ۔جب وہ آئی تو میں نے شکل سے اُسے پہچانا نہیں، چنانچہ میں نے اُسے کہا کہ آپ نے تو یہ کہلا بھیجا تھا کہ میں انہیں خوب جانتی ہوں مگر میں نے آپ کو نہیں پہچانا۔اُس نے بڑی حیرت سے کہا کہ آپ نے تو مجھے اپنی گودیوں میں کھلایا ہوا ہے۔میں نے کہا، ٹھیک ہوگا، مگر مجھے کچھ اتا پتہ تو بتاؤ تا کہ مجھے بھی یاد آئے کہ میں نے تمہیں کب اپنی گودیوں میں کھلایا ہے؟ اس پر اُس نے جو اگلی بات کہی اُس سے مجھے بھی سارا واقعہ یاد آ گیا اور میں سمجھ گیا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہے ٹھیک کہہ رہی ہے۔بات یہ تھی کہ اُس کے والد کے ہاں متواتر لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئیں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوتا تھا اور اُن کا طریق تھا کہ جب بھی لڑکی پیدا ہوتی وہ اُسے میرے پاس لاتے اور میری گود میں ڈال کر کہتے کہ دُعا کریں ان لڑکیوں کا بھائی پیدا ہو۔اس واقعہ کے یاد آجانے پر میں نے اُسے کہا کہ تمہارا باپ تو اتنا مخلص احمدی تھا اور تم ایک غیر احمدی سے بیاہی ہوئی ہو ، یہ بات کیا ہے؟ اس پر وہ رو پڑی اور اُس نے کہا میرے خاوند نے شادی کے وقت کہہ دیا تھا کہ میں تو احمدی ہی ہوں اور گھر والوں نے زیادہ تحقیق نہ کی اور شادی کر دی اب میں سخت مصیبت میں مبتلا ہوں ، اور واقع یہ ہے کہ وہ بہت دکھ میں تھی اور زار زار روتی تھی۔لڑکی بڑی مخلص ہے۔اُس کا باپ بھی بڑا مخلص تھا لیکن غیر احمدی سے اُس کی