خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 408
خطابات شوری جلد سوم ۴۰۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء تم چاہے مار ڈالو میں نے تو ووٹ ضرور دینا ہے کیونکہ مرکز سے مجھے یہی حکم آیا ہے کہ محرم علی صاحب چشتی کو ووٹ دیا جائے۔غرض اس طرح وہ تین چار دفعہ گرے اور سر سے پاؤں تک زخمی ہو گئے مگر یہی کہتے چلے گئے کہ تم خواہ کچھ کرلو میں اب واپس نہیں جاسکتا آخر انہوں نے خود ہی رستہ دے دیا کہ اس نے تو باز ہی نہیں آنا چلو اسے جانے دو۔ان کے مقابلہ میں ملک برکت علی صاحب تھے اُنہوں نے بعد میں کیس کر دیا کہ مذہبی طور پر دباؤ ڈال کر چشتی صاحب کی امداد کی گئی ہے۔اس پر ایک کمیشن مقرر ہوا جس میں ایک تو سر عبد القادر صاحب مرحوم تھے اور ایک اور تھے جن کا نام اس وقت میرے ذہن میں نہیں۔میں کمیشن کے سامنے پیش ہوا تو مجھ سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ نے اپنی جماعت کو حکم دیا تھا که چشتی صاحب کو ووٹ دیا جائے؟ میں نے کہا میں اپنی جماعت کا امام ہوں اور میرا فرض ہے کہ جماعت اگر مجھ سے کسی امر کے متعلق مشورہ پوچھے تو میں اُسے صحیح مشورہ دوں یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ بیٹا اپنے باپ سے کوئی بات پوچھے اور باپ اُسے نہ بتائے۔باقی قانون جس چیز سے روکتا ہے وہ یہ ہے کہ ڈرا دھمکا کر کسی سے ووٹ نہ لیا جائے یا یہ نہ کیا جائے کہ اگر تم نے ووٹ نہ دیا تو تم دوزخ میں چلے جاؤ گے۔میں نے کہا اس میں دوزخ اور جنت کا سوال ہی کیا ہے یہ تو ایک دُنیوی معاملہ ہے اور ہر شخص اختیار رکھتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے باقی مجھ سے اگر مشورہ لیا جائے گا تو میں بہر حال اُسے وہی مشورہ دوں گا جو میرے نزدیک درست ہوگا۔ملک برکت علی صاحب وکیل بھی تھے انہوں نے خوب جرح کی مگر کمیشن نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ ہندوستان کے پیر عموماً ناجائز طور پر الیکشنوں میں دخل دیتے ہیں لیکن ہم اس حق سے کسی کو محروم نہیں کر سکتے کہ وہ دوسروں کو اپنا مشورہ دے دے۔اس کے بعد اُنہوں نے میرا ذکر کیا اور لکھا کہ اس الیکشن میں امام جماعت احمدیہ نے ایسے رنگ میں مشورہ دیا ہے جسے ایک مثال اور نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔اگر ہندوستان کے پیر اور گدی نشین الیکشنوں میں دخل دینا چاہیں تو وہ اس طرح دیا کریں جو ایک جائز رنگ ہے۔سرعبدالقادر صاحب سے میرے بڑے دوستانہ تعلقات تھے اور جب بھی انہیں موقع ملتا وہ دلیری سے سلسلہ کی تائید کیا کرتے تھے لیکن اُن سے میری دوستی کی ابتدا اسی کیس سے ہوئی تھی۔تو یہ صیح بات ہے کہ ہمیں اس سے فائدہ بھی تھا مگر یہ بھی صحیح بات ہے کہ