خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 407
خطابات شوری جلد سوم ۴۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء رو کو دیکھتے ہوئے ہمیں کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہیے ورنہ یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ملک کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے اگر آج ہم کوئی قانون بنائیں گے تو حالات کے تبدیل ہونے پر ہم اُسے بدل بھی سکتے ہیں۔بہر حال اس وقت ہمارے سامنے جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ اسمبلی کے انتخابات میں اگر مرکز فیصلہ کرے اور حکم دے کہ فلاں امیدوار کی مدد کی جائے اور فلاں کی نہ کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کا مرکز پر کوئی حرف لا نا براہ راست حکومت کو سلسلہ سے ٹکرا دے لیکن اگر حلقہ وار جماعتیں اپنی مرضی سے کسی کو ووٹ دیں تو سلسلہ سے ٹکراؤ نہیں ہو سکتا۔یہ وہ نقطہ نگاہ ہے جو اس تجویز کے پس پردہ کام کر رہا ہے لیکن اس کے علاوہ ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض حلقوں سے جب ہماری جماعت کے افراد الیکشن میں کھڑے ہوں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا فائدہ اسی میں ہے کہ ہمیں آزاد کر دیا جائے اگر ہمیں آزاد نہ کیا گیا تو ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ تو وہ دو پہلو ہیں جو اس تجویز کی تائید میں ہیں۔لیکن اس امر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب جماعتیں مرکز کے مشورہ کی پابند ہوا کرتی تھیں تو ہمارا مخالفین پر بڑا رعب تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ یہ جماعت وہی کچھ کرتی ہے جس کے کرنے کا اسے مرکز سے مشورہ دیا جاتا ہے۔لاہور کے محرم علی صاحب چشتی ایک دفعہ الیکشن کے لئے کھڑے ہوئے اُن کے حضرت خلیفہ اول سے بڑے تعلقات تھے۔پیر طرز کے آدمی تھے اور ساری ساری رات وظیفہ کرتے رہتے تھے۔ہمیں اس الیکشن سے صرف اس لئے دلچسپی تھی کہ کانگرس نے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا تھا اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ بائیکاٹ ہو چنانچہ شدید مخالفت کے باوجود ہم نے فیصلہ کیا کہ محرم علی صاحب چشتی کو ووٹ دیا جائے۔اُن دنوں لاہور میں ہماری اتنی کمزور حالت تھی کہ ہمار ا صرف ایک ووٹ تھا اور وہ بھی محمد اکرام صاحب تاجر کا جو بعد میں قادیان آگئے تھے۔جب بھی کوئی شخص ووٹ دینے کے لئے آتا کانگرسی اُسے شرم دلاتے ، اُس کے متعلق گندے الفاظ استعمال کرتے اور اُسے اتنا تنگ کرتے کہ آخر مجبور ہوکر وہ واپس چلا جاتا۔محمد اکرام صاحب آئے تو انہیں بھی کانگرسیوں نے بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا مگر اُنہوں نے کہا تم خواہ کچھ کہو میں نے ووٹ ضرور دینا ہے۔آخر اُنہوں نے پتھر مارنے شروع کر دیئے یہ پتھر کھا کر گر گئے مگر پھر اُٹھے اور ووٹ دینے کے لئے چل پڑے۔انہوں نے پھر پتھر مارنے شروع کر دیئے انہوں نے کہا