خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 26
خطابات شوری جلد سوم ۲۶ مشاورت ۱۹۴۴ء اپنی ساری دولت پھینک دے گا اور اس کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرے گا۔یہ کیفیت ہے جو امیر اور غریب دونوں کے دلوں میں پیدا ہونی چاہئے۔بے شک ایک امیر آدمی کے پاس دولت ہوتی ہے اور غریب اس دولت سے محروم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کے راستے امیر اور غریب دونوں کے لئے کھلے رکھے ہیں۔دولت مند اگر اپنے اموال کی قربانی سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرتا ہے تو ایک غریب شخص صرف ارادہ کے ساتھ اُس کی برکتوں کو جمع کر لیتا ہے۔جب تک ہمارے کام اس بنیاد پر نہیں ہوں گے ہم اپنے فرائض کی ادائیگی میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہمیں یہ امر ہر وقت اپنے مد نظر رکھنا چاہئے کہ جس کام کو ہم نے سرانجام دینا ہے وہ اتنا عظیم الشان اور اس قدر اہم ہے کہ اس کے لئے ہمیں کسی قربانی کی بھی پروا نہیں ہوسکتی۔خواہ ہمارے کپڑے پک جائیں، ہمارے گھر فروخت ہو جائیں ، ہماری جائدادیں جاتی رہیں، ہماری عزت اور ہمارا ناموس قربان ہو جائے ، ہمیں دوسروں کی غلامی کرنی پڑے تب بھی ہم اپنے مقصد کو حاصل کر کے رہیں گے اور ہم یہ خیال بھی اپنے دل میں نہیں لائیں گے کہ ہم نے کوئی کام کیا ہے۔خدا کا دین دنیا میں پھیلانا اور اس کے نام کو بلند کرنا ہمارا مقصد ہے۔اس مقصد میں اگر ہم اپنے آپ کو بیچ کر بھی کامیاب ہو سکتے ہیں، اگر ہم اپنی بیویوں اور اپنے بچوں کو قربان کر کے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں تو ہمیں اس میں کوئی دریغ نہیں ہونا چاہئے ، یہ عزم ہے جو ہمارے اندر پیدا ہونا چاہئے اور یہ دلیری کی روح ہے جو ہم میں سے ہر شخص کو پیدا کرنی چاہئے۔جب تک ہم اپنے اندر یہ دلیری پیدا نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہم اس کام کے اہل نہیں بن سکتے اور نہ اس کام کو کسی صورت میں سرانجام دے سکتے ہیں۔میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے بجٹ میں اس سال بعض غلطیاں رہ گئی ہیں مثلاً کالج کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے مگر اس کے اخراجات کا بجٹ میں کوئی ذکر نہیں حالانکہ یہ اخراجات ایسے ضروری ہیں کہ کالج کا اعلان ہو جانے کے بعد ان کو کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح بجٹ کمیٹی کو یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ میرے نزد یک نظارتوں کا عملہ اس قسم کا نہیں جو تمام کام کو سنبھال سکے۔وہ عملہ صرف اتنا کام کر سکتا ہے