خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 402

خطابات شوری جلد سوم ۴۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء کہہ دیں گے کہ اس سے فلاں ملک مضبوط ہوتا ہے۔اور جب وہ روکیں گے تو جہاد جائز ہو جائے گا۔ہم امن قائم کرنا چاہیں گے لیکن وہ ہمیں امن قائم نہیں کرنے دیں گے اور اگر ایسے حالات پیدا ہونے کا امکان ہو تو ضروری ہے کہ ہم اس کے لئے تیاری کریں۔اگر ہم نے تیاری نہ کی تو ہم اُن کا مقابلہ کیسے کریں گے۔علاوہ حب الوطنی کے ہمارے مذہبی مرکز کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو بچایا جائے۔اگر لڑائی ہو جائے تو سب سے بڑا فرض احمد یہ جماعت کا ہوگا کہ وہ پاکستان کو بچائے۔سب سے زیادہ خطرہ انہیں ہوگا۔احمدیت اگر کوئی اہمیت اور وقعت رکھتی ہے تو ہمیں اُس کے برابر اُس کی قیمت بھی ادا کرنی پڑے گی اور وہ قیمت جو قرآن نے مقرر کی ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص جہاد کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو اُس وقت تک وہ گھر واپس نہیں آتا جب تک کہ خدا تعالیٰ اُسے شہادت یا فتح نہیں دے دیتا۔خدا تعالیٰ نے ان دونوں موت یا فتح کو إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ قرار دیا ہے۔یہ صرف دو ہی چیزیں ہیں، ان کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں۔اگر کوئی شخص ان دو کے علاوہ کوئی اور رستہ تجویز کرتا ہے تو وہ قرآن کریم بھی اور تجویز کرلے۔بہر حال یہ ایک اہم ریضہ ہے جس میں نو جوانوں کو حصہ لینا چاہیئے۔ہماری جماعت کے ذمہ دار عہد یداروں کو چاہیے کہ اگر اُن کی جماعت کے نوجوان فوجی ٹرینگ کے لئے اپنے آپ کو پیش نہ کریں یا باوجود توجہ دلانے کے وہ اس میں حصہ لینے کے لئے تیار نہ ہوں تو وہ ایسے نوجوانوں کی فہرست ہمیں ارسال کریں تا کہ اُنہیں جماعت میں سے خارج کر دیا جائے اس کے بعد بے شک وہ لوگ اپنے آپ کو احمدی کہتے رہیں ہم انہیں جماعت کا فرد قرار نہیں دیں گے“۔انتخابات سے متعلق سب کمیٹی نظارت سب کمیٹی امور عامہ کی رپورٹ سنائے جانے پر حضور نے فرمایا : - امور عامہ کی تجاویز اور ان کا پس منظر۔’احباب نے سب کمیٹی کی تینوں تجویزیں سن لی ہیں۔ان تجاویز کا جو پس منظر ہے وہ بھی میں بتا دیتا ہوں۔بات یہ ہے کہ پچھلے تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مرکز کا انتخابات کے معاملہ میں دخل دینا درست نہیں۔مسلم لیگ نے پچھلے الیکشن میں ۸۰ فیصدی ووٹ ہماری مدد سے حاصل کیا مگر اس کے باوجود جب بعض جگہ ہماری طرف سے کسی