خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 399

خطابات شوری جلد سوم ۳۹۹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ خفا نہ ہوں انسان میں بعض کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔جن باتوں کو کسی حد تک برداشت کیا جا سکتا ہے وہ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن میں اجتہاد کا دخل ہوتا ہے لیکن جو معین احکام ہیں یا جو ایسے احکام ہیں کہ جن میں شبہ نہیں کیا جاسکتا اُن میں کمزوری دکھانے کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ایک شخص کسی کے متعلق اپنی رائے بیان کر رہا ہو تو ہم اُسے بدظنی بھی کہہ سکتے ہیں اور حقیقت حال کا اظہار بھی کہہ سکتے ہیں لیکن اگر جنگ ہورہی ہو اور ایک شخص اُس میں شامل نہ ہو اور گھر بیٹھ رہے تو اُس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جانے دو انسان میں بعض کمزوریاں بھی ہوتی ہیں کیونکہ جہاد اسلام کے معین احکام میں سے ہے۔غرض جن امور کی تعیین میں اجتہاد کو دخل نہیں ہوتا اُن کا تارک کسی صورت میں بھی اُس سلسلہ میں شامل نہیں رہ سکتا جس کی تعلیم کا وہ امور مجزو ہوں۔مثلاً چندہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص تین ماہ تک چندہ نہیں دیتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔یہ اس لئے حکم دیا گیا کہ چندہ دینے میں اجتہاد کا دخل نہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص کے متعلق بیت المال کا رجسٹر کہہ رہا ہو کہ وہ چندہ نہیں دیتا لیکن مقامی سیکرٹری کہے کہ شاید وہ چندہ دے رہا ہو۔کیونکہ ہر شخص جو چندہ دیتا ہے وہ بیت المال کے رجسٹروں میں لکھا جاتا ہے۔اور جب بیت المال کا رجسٹر کہہ رہا ہو کہ اُس نے چندہ نہیں دیا تو ہمیں بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ نادہندہ ہے۔غرض جو افعال معین ہوتے ہیں اور جن میں اجتہاد اور احتمال کا دخل نہیں ہوتا اُن میں سے کسی فعل کے تارک کو کسی سلسلہ میں جس کا وہ جزو ہے شامل رکھنے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اُس کے بگاڑ کو ہم نے برداشت کر لیا۔جیسے مسلمان بگڑے تو انہوں نے یہ رنگ اختیار کر لیا کہ فلاں شخص اگر نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا یا حج نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ اُس پر رحم کرے اور پھر اس میں ترقی کرتے کرتے مسلمان اس حد تک پہنچ گئے کہ انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ مستحق شفاعت گنهگارانم۔یعنی اگر ہم گناہ نہ کریں تو یہ عظیم الشان گناہ ہوگا۔کیونکہ اگر ہم گناہ نہ کریں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شفیع کا درجہ کیسے پائیں گے، ہم گناہ نہیں کریں گے تو آپ شفاعت کیا کریں گے۔گویا گناہ نہ کر کے ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑے درجہ سے محروم