خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 398
خطابات شوری جلد سوم ۳۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء فوجی ٹریننگ میں نے کل دوستوں کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ انہیں فوجی ٹرینگ کے لئے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں پیش کرنا چاہیے تا کہ وقت آنے پر وہ اپنی قوم اور ملک کے لئے مفید وجود ثابت ہوں۔آج شوری کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے میں پھر احباب کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا جماعت میں اصولی چیزوں کا نہ ہونا اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ نہ کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہو سکتا خالی نعرے لگا دینا اور عملاً کچھ نہ کرنا کبھی مفید نہیں ہوتا۔کہتے ہیں کوئی بزدل تھا اُسے خیال ہو گیا کہ میں بڑا بہادر ہوں اور اُس نے تجویز کیا کہ وہ اپنے جسم پر کوئی بہادری کی علامت گدوائے آخر اُس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بازو پر شیر کی شکل گروائے گا۔وہ گودنے والے کے پاس گیا اور اُسے کہا میرے بازو پر شیر گوددو۔گودنے والے نے اپنے سامان لیا اور گودنے کے لئے تیار ہو گیا۔اُس نے سُوئی جو ماری تو چونکہ وہ بز دل تھا درد کی اُس سے برداشت نہ ہو سکی اور اُس نے گودنے والے سے پوچھا تم شیر کا کون سا حصہ گود رہے ہو؟ اُس نے کہا میں دایاں کان گودنے لگا ہوں۔اُس نے کہا اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو کیا شیر رہتا ہے یا نہیں؟ گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔اُس نے کہا اچھا دایاں کان چھوڑ دو اور آگے چلو۔اسی طرح ہر عضو کے متعلق اُس نے یہی کہنا شروع کر دیا آخر گودنے والا سوئی چھوڑ کر بیٹھ گیا، اُس نے پوچھا بیٹھ کیوں گئے ہو؟ اُس نے کہا شیر کا دایاں کان نہ ہو تب بھی وہ شیر رہتا ہے اور اگر بایاں کان نہ ہو تب بھی شیر رہتا ہے لیکن جتنے اعضاء تم نے چھڑ وائے ہیں اُن کے بعد تو شیر ہی نہیں رہتا۔غرض بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں خوشی سے تو نہیں لیکن مجبوراً نظر انداز کیا جاسکتا ہے مگر بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں مجبوراً بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔مثلاً طبیعت میں اشتعال کا آجانا اسلام کے خلاف ہے لیکن اسے ایک حد تک برداشت کیا جاسکتا ہے۔یا بدظنی ہے یہ بھی اسلام کے خلاف ہے لیکن مجبوراً اسے ایک حد تک برداشت کیا جاسکتا لوگ کہہ دیتے ہیں چلو جی انسان میں کچھ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں کچھ کا لفظ غیر معین کمزوری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ کسی شخص کے ایسے چند واقعات سن کر لوگ کہہ دیتے ہیں آپ خفا نہ ہوں انسان میں بعض کمزوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن یہ سن کر کہ فلاں نماز نہیں پڑھتا ہے۔