خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 397
خطابات شوری جلد سوم ایک رؤیا ۳۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء رات میں نے رویا میں دیکھا جیسے میں قادیان میں ہوں اور باہر کے محلہ سے جس طرف سے پہلے زمانہ میں یکے وغیرہ آتے تھے ، آرہا ہوں۔بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی میرے ساتھ ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دشمن کے نرغہ میں گھر جائے تو وہ کیا طریق اختیار کرے۔اگر وہ اندر چھپ کر اپنے دن گزارے تو کیا یہ ایمان کے خلاف تو نہ ہوگا ؟ میں نے اُن کے جواب میں کہا کہ یہ امر نا جائز نہیں اس وقت میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود مجھے ایک شخص کمرہ میں سے نکال کر دکھایا تھا اور بتایا تھا کہ یہ اس اس طرح دشمن کے نرغہ میں گھر گیا تھا۔مگر گھر میں پوشیدہ رہ کر اُس نے دن گزارے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے عملاً مجھے ایک شخص ایک کمرہ سے ( جو میاں عبداللہ صاحب کے مکان میں تھا ) نکال کر دکھایا ہے جو دشمن کے نرغہ میں گھر گیا تھا اور اُس نے پوشیدہ رہ کر دن گزارے تھے۔پھر میں نے مزید وضاحت کے لئے کہا کہ میاں عبداللہ صاحب جلد ساز کے گھر میں تھا یعنی اُس مکان میں جو قادیان میں تھا۔اس کے بعد میں گھر میں داخل ہوا اس وقت میرے ہاتھ میں ایک ڈبہ ہے اور ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب بھی وہیں موجود ہیں میں نے وہ ڈبہ انہیں دکھایا اور کہا کہ میری طبیعت خراب رہتی ہے اور یہ دوا کسی نے جگر کے مقام پر لیپ کرنے کے لئے بتائی ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس میں پارہ نہ ہو چونکہ میرے دانت آگے ہی کمزور ہیں اور پارہ دانتوں کے لئے مھر چیز ہے اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ہاتھ کو دوا لگے اور ہاتھ دانتوں کو لگیں اور دانت خراب ہو جائیں۔انہوں نے کہا اس میں پارہ نہیں۔وہ ڈبہ ایسا ہے جیسے اینٹی فلوجسٹین کا ہوتا ہے۔مگر اس میں جو دوائی نظر آرہی ہے وہ ذرا بھورے رنگ کی ہے یوں وہ ڈبہ بند ہے مگر کشفی طور پر مجھے اس کے اندر کی دوائی بھی دکھائی دے رہی ہے اور وہ بھورے رنگ کی ہے۔اس رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہے بعض جگہ احمدیوں کے لئے ایسا فتنہ پیدا ہو کہ اُن کے لئے کھلے بندوں پھر نا مشکل ہو جائے۔خواب کے دوسرے حصہ میں مجھے اپنے علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ممکن ہے میرے جگر میں خرابی ہو جس کی وجہ سے باقی عوارض پیدا ہور ہے ہوں یا ممکن ہے یہ حصہ بھی تعبیر طلب ہو۔