خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 396

خطابات شوری جلد سوم ۳۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء لیکن فرض کرو افریقہ میں پیش آتی ہیں تو وہاں کے احمدی ہما را نمونہ دیکھیں گے۔اگر ہم اُس وقت اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے تو ہم ان سے کہہ سکیں گے کہ پاکستان میں ہم کو دینی جہاد کا موقع تو نہیں ملا لیکن ہماری دنیوی حکومت پر یا ہمارے ملک اور ہماری قوم پر جب حملہ ہوا تو ہم نے اس کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کو قربان کر دیا۔یہ نمونہ ہے جس سے وہ سبق سیکھیں گے اور اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے لیکن اگر ہم نے اُن سے یہ کہا کہ ہمارے آدمی تو جانیں دینے سے بھاگا کرتے تھے مگر بہادر و شاباش تم لڑو اور اپنی جانیں قربان کرو۔تو وہ کہیں گے کہ تم نے تو ہمارے لئے نمونہ بننا تھا اگر تم لڑنے کے لئے نہیں نکلے تو ہم سے تم یہ کس طرح مطالبہ کر سکتے ہو کہ ہم اس وقت دین کے لئے اپنی جانیں قربان کریں۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ قربانی ہمیں سب سے پہلے کس ملک میں پیش کرنی پڑے گی۔ممکن ہے ایشیا میں پیش کرنی پڑے یا ایشیا سے باہر پیش کرنی پڑے۔بہر حال ہمیں اس وقت اچھا نمونہ دکھانا پڑے گا۔اگر ہم اچھا نمونہ نہیں دکھا ئیں گے تو کبھی بھی ہم دوسرے ملکوں کے لئے نیک روایات قائم نہیں کر سکیں گے۔(رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء) دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن یعنی ۱۸ را پریل کو تلاوت قرآن کریم اور دعا کے بعد حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: - جیسا کہ میں نے کل بیان کیا تھا میری طبیعت جلسہ سالانہ کے بعد سے زیادہ کمزور ہے۔کل کی تقریر سے بھی تکلیف بڑھ گئی ہے۔بعض دفعہ تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دل کی حرکت فوراً بند ہو جائے گی۔گلے کی تکلیف کے آثار بھی رات سے پھر شروع ہو گئے ہیں اور کان میں بھی درد شروع ہوگئی ہے اس بیماری کی ابتدا اسی طرح ہوتی ہے پچھلی دفعہ بھی اسی طرح ہوا تھا اور اب بھی یہی ہو رہا ہے ممکن ہے یہ بیماری جگر کی خرابی کی وجہ سے ہو کیونکہ بعض دفعہ بیماری کہیں ظاہر ہوتی ہے اور اُس کا سبب کہیں مخفی ہوتا ہے اس کا خیال مجھے ایک رویا سے آیا ہے۔۔