خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 395
خطابات شوری جلد سوم ۳۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ہمارا اتنا وقت ضائع کیا۔اس کے بعد وہ سیدھے اُس قلعہ کی طرف چل پڑے۔پندرہ ہیں گز گئے تھے کہ دشمن کو علم ہو گیا اور اُس نے فائرنگ شروع کر دی۔اُن کے چالیس پچاس آدمی وہیں ڈھیر ہو گئے۔اِس پر اُنہوں نے ان لاشوں کی اوٹ میں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔پھر کچھ مرے تو اُنہوں نے اُن کی لاشوں کو آگے رکھ لیا۔اس طرح وہ اپنی لاشوں کو پناہ بناتے ہوئے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور جس قلعہ کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ چھ مہینے تک فتح نہیں ہو سکتا اُس قلعہ پر شام کے وقت ہمارا جھنڈا لہرا رہا تھا۔اُس کرنل نے بتایا کہ وہ اتنی دلیری کے ساتھ آگے بڑھے کہ ہمیں دیکھ کر حیرت آتی تھی۔ہم اُن سے کہتے کہ دشمن سے چھپو اور وہ ناچنے لگ جاتے اور کہتے کہ ہم تو حملہ سے پہلے ناچا کرتے ہیں۔یہ دُنیوی چیزیں ہیں جو ایمان کے نہ ہوتے ہوئے بھی مختلف قوموں میں پائی جاتی ہیں۔اگر یہ پہلی چیزیں ہی ہمارے اندر نہیں پائی جاتیں تو اگلی خوبیاں ہم میں کہاں ہوسکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دُنیا دار لوگ جتنی قربانیاں کرتے ہیں وہ ایک چھوٹا پیمانہ ہوتا ہے جس کو دیکھتے ہوئے مومن اپنی آئندہ ترقی کی عمارت تیار کرتا ہے۔اگر نئی عمارت بنانے کی بجائے ہم اُس پیمانہ کی قربانیاں بھی نہ کریں جس پیمانہ کی قربانیاں عام دنیا دار لوگ کیا کرتے ہیں تو ہم سے زیادہ اپنے دعووں میں جھوٹا اور کون ہوسکتا ہے۔پس آپ لوگ اچھی طرح سمجھ لیں کہ اب یہ غفلت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کی جاسکتی۔دُنیا میں کبھی بھی مذہب نے قربانی کے رستوں کے بغیر ترقی نہیں کی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے کہ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم کو وہ تکلیفیں نہیں پہنچیں گی جو پہلے لوگوں کو پہنچی ہیں۔اگر تم ایسا خیال کرتے ہو تو یہ تمہاری غلطی ہے۔اب دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں یا تو تم یہ سمجھو کہ قرآن نعوذ باللہ جھوٹا ہے اُس نے یونبی ایک گپ ہانک دی ہے اور یا تم یہ سمجھو کہ احمدیت جھوٹی ہے اس نے ترقی ہی نہیں کرنی پھر اس کے لئے جان کی قربانی کی کیا ضرورت ہے۔اور اگر قرآن نے جو کچھ کہا وہ سچ ہے اور اگر احمدیت بھی سچی ہے تو لازماً اپنے ملک کی عزت کی حفاظت کے لئے اس وقت جو موقع پیدا ہوا ہے، اس میں تمہیں حصہ لینا پڑے گا کیونکہ یہ تغیر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ اسلام کی آئندہ ترقی کے لئے زیادہ قربانیاں ہم کو ہندوستان میں دینی ہوں گی یا افریقہ میں