خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 392
خطابات شوری جلد سوم ۳۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء میں اُس کا رسول ہوں۔پھر آپ نے فرمایا تم نے یہ بات کیوں کہی ہے؟ اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے فلاں شخص کے متعلق یہ بات کہی تھی ، اس پر بعض صحابہ کے دل میں محبہ پیدا ہوا کہ اتنے بڑے نیک انسان کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کیا کہہ دیا مگر میں نے کہا خدا کے رسول کی بات جھوٹی نہیں ہوسکتی اور میں نے قسم کھائی کہ میں اسے چھوڑوں گا نہیں جب تک میں اس کا انجام نہ دیکھ لوں۔چنانچہ میں اس کے ساتھ رہا اور آخر وہ خود کشی کر کے مر گیا ہے تو بے دین لوگ بھی ملک کی خاطر اور حمیت کی خاطر اور جاہلیت کی خاطر بڑی بڑی قربانی کیا کرتے ہیں۔پس جان اتنی قیمتی چیز نہیں کہ اُسے اس طرح سنبھال سنبھال کر رکھا جائے لیکن جب سینکڑوں سال کی غلامی کے بعد کسی کو آزادی ملے اور سینکڑوں سال کے بعد کسی کو اس بات کے آثار نظر آنے لگیں کہ خدا تعالیٰ پھر اسلام کی سر بلندی کے مواقع بہم پہنچا رہا ہے تو اُس وقت بھی اپنے حالات میں تغیر پیدا نہ کرنا اور غلامی کے احساسات کو قائم رکھنا بڑی خطرناک بات ہے۔ہم تو انگریزوں کے زمانہ میں بھی یہ کہا کرتے تھے کہ غلامی اور چیز ہے اور اطاعت اور چیز ہے۔جب گاندھی کہتا کہ ہم کب تک انگریزوں کے غلام رہیں گے تو میں ہمیشہ اس کے جواب میں یہ کہا کرتا تھا کہ میں تو انگریزوں کا غلام نہیں۔میرا ضمیر خدا تعالیٰ کے فضل سے اب بھی آزاد ہے اور اگر مجھے جائز رنگ میں اُن کا مقابلہ کرنا پڑے تو میں اُن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔غرض غلامی کے غلط اور گندے احساسات اُس وقت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے اندر نہیں تھے لیکن دوسرے لوگ اگر اُنہی احساسات کو اب بھی لئے چلے جائیں اور یہ نہ سمجھیں کہ آئندہ اُن پر کیا ذمہ داری آنے والی ہے تو یہ بالکل تبا ہی والی بات ہوگی۔بہر حال جماعت کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اب ان باتوں کو قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جاسکتا۔یہ کہنا کہ پاکستان کی حکومت کون سی احمدی حکومت ہے لغو بات ہے۔سوال یہ ہے کہ اب تمہاری اپنی حکومت ہے، چاہے موجودہ حکومت احمدی حکومت ہو یا نہ ہو۔انگریز باہر سے آیا تھا اور وہ یہ کہا کرتا تھا کہ میں حاکم ہوں اور تمہیں وہی اختیار حاصل ہوگا جو میں تمہیں دوں گا لیکن اب پاکستان میں ہندو بھی ہیں، شیعہ بھی ہیں ، سنی بھی ہیں، احمدی بھی ہیں اور کئی دوسری جماعتیں بھی ہیں لیکن حکومت کیا کہتی ہے؟ حکومت یہ نہیں کہتی کہ وہ