خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 393
خطابات شوری جلد سوم ۳۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء شیعوں کی ہے یا سنیوں کی ہے بلکہ وہ کہتی ہے کہ یہ تم سب کی حکومت ہے۔اگر موجودہ حکومت کی جگہ کوئی اور حکومت آ جائے تو بہر حال وہ بھی اکثریت کی ہی حکومت ہوگی اور اکثریت کو بدلنا تمہارے ہاتھ میں ہے۔تم تبلیغ کر کے اکثریت بن جاؤ اس سے تم کوکون روکتا ہے۔یا دوسری جماعتوں سے سمجھوتے کر کے اکثریت بن جاؤ اس سے تم کو کون روکتا ہے۔اگر تم تبلیغ کر کے اکثریت بن جاؤ یا مسلم لیگ یا دوسری جماعتوں سے سمجھوتہ کر کے اکثریت کا جزو بن جاؤ تو اس میں کیا شبہ ہے کہ پاکستان کی حکومت تمہاری حکومت ہی ہوگی۔تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اب تمہاری وطنی حکومت ہے اور وطنی حکومت اور غیر حکومت میں بڑا بھاری فرق ہوتا ہے۔ہمارے اُصول کے مطابق تو غیر حکومت جو امن دے رہی ہو اُس کی مدد کرنا بھی ضروری ہوتا ہے اور وطنی حکومت کی مدد کرنا تو اس حدیث کے ماتحت آتا ہے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَعِرْضِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ۔جو شخص اپنے مال اور اپنی عزت کا بچاؤ کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہوتا ہے۔یہ شہادت چاہے اتنی شاندار نہ ہو جتنی دینی جہاد میں جان دینے والے کی شہادت ہوتی ہے لیکن بہر حال یہ ایک رنگ کی شہادت ضرور ہے اور انسان جتنا بھی ثواب حاصل کر سکے اُسے ثواب حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس آپ لوگ اپنے دلوں میں غور کریں اور جماعتوں کی طرف سے ذمہ داری لیں کہ آپ اپنے نو جوانوں کو باقاعدگی کے ساتھ فوجی فنون سیکھنے کے لئے محاذ پر بھجوایا کریں گے اور اپنی تعداد کے لحاظ سے نسبت کو قائم رکھیں گے۔میں جانتا ہوں کہ شہری لوگوں کے لئے بڑی مصیبت ہے اور اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے اُن کے دل لرزتے ہیں۔لاہور میں میں نے کئی تقریریں کیں ، بارہا جماعت کو توجہ دلائی، مختلف پیرایوں میں اُن کے سامنے یہ تحریک رکھی مگر پانچ سو میں سے دس آدمی بھی لاہور سے نہ جا سکے اور دس کہتے وقت بھی غالباً میں حُسنِ ظن سے کام لے رہا ہوں۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہری آبادی سے فوجی تیاری کے لئے نوجوان مہیا کرنا کتنا مشکل کام ہے لیکن بغیر مشکلات میں سے گزرنے کے کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوا کرتی۔کسی جماعت میں شامل ہونا اور اُس کی ذمہ داریوں کو پورا نہ کرنا بے وقوفی ہوتی ہے۔پس یہ ایک ضروری مسئلہ ہے جسے سوچتے رہیں۔میری طبیعت اچھی ہوئی اور گلا گھلا تو میں کسی وقت یہ سوال بھی آپ لوگوں