خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 388
خطابات شوری جلد سوم ۳۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۵۰ء ہونے چاہئیں اور اسلامی طریق پر ۳۲ ہزار ہونے چاہئیں۔اُس جماعت میں سے اگر صرف ڈیڑھ سو آدمی جاتا ہے اور باقی سب بہانے بنانے لگ جاتا ہے تو ہمیں یہ خطرناک صورتِ حالات دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ جس طرح وہ شخص جو چندہ نہیں دیتا اُسے جماعت سے خارج کیا جاتا ہے۔جہاد اور جنگ کی اہمیت اسی طرح وہ لوگ جو فوجی ٹرینگ کے لئے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتے اُن کو بھی جماعت میں سے خارج کر دیا جائے بلکہ جہاد اور جنگ کی تیاری تو چندہ سے بہت زیادہ اہم ہے۔جیسے نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح دین کی خاطر ضرورت پیش آنے پر لڑائی کرنا بھی فرض ہے۔یہ کہنا کہ یہ دین کی خاطر جہاد نہیں بالکل لغو بات ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اگر پاکستان خطرہ میں پڑا تو لڑنے کے لئے فرشتے آئیں گے؟ جب تک تم فوجی فنون نہیں سیکھو گے اُس وقت تک تم ملک کی حفاظت کس طرح کرسکو گے؟ اور ملک کی حفاظت بھی تو ایک قسم کا جہاد ہوتا ہے گو وہ سو فیصدی جہاد نہ ہو۔فرض کرو پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے ایک قوم آجاتی ہے تو کیا تم اُس وقت اُس قوم سے یہ کہو گے کہ ابھی چھ ماہ کے لئے واپس چلے جاؤ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہمارے ملک پر کوئی حملہ کرنے والا ہے اس لئے ہم نے تیاری نہ کی تھی ؟ اب آپ کے حملہ سے ہمیں جہاد کا احساس ہو گیا ہے، ہم فوجی ٹرینینگ شروع کرنے والے ہیں، چھ مہینے کے بعد ہم آپ کو اطلاع دے دیں گے پھر آپ بے شک ہم سے لڑنے کے لئے آجائیں۔جب تم ایسا نہیں کر سکتے تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اس قسم کے سوالات محض نفس کے بہانے ہیں اور جب انسان بہانہ بنانے پر آتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی بات پیش کروں جس سے میں اپنی بریت کر سکوں اور یہ ظاہر کر سکوں کہ میں نے گناہ نہیں کیا۔میں جماعت کے دوستوں پر یہ امر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر تم اپنے ایمان کو سلامت لے جانا چاہتے ہو اور کسی کے ایمان کی سلامتی میرے اختیار میں نہیں ایمان کو سلامت رکھنے والی تمام باتیں قرآن کریم میں لکھی ہوئی ہیں۔اگر تم میں وہ باتیں ہوں گی تو تم ایماندار ہو گے اور اگر نہیں ہوں گی تو ایماندار نہیں ہو گے۔بہر حال اگر تم اپنے ایمان کو اس دُنیا سے سلامت لے جانا چاہتے ہو تو تمہیں یہ امر ا چھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ جن امور کو