خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 375

خطابات شوری جلد سوم ۳۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء اس بجٹ میں کچھ غلطیاں بھی ہیں مگر آپ لوگوں کی سفارش کے ماتحت میں بجٹ اخراجات کو اصولی طور پر منظور کرتا ہوں اگر کسی جگہ مجھے بعد میں اصلاح کی ضرورت محسوس ہوئی تو میں خود بخود کر دوں گا۔“ اختتامی تقریر وصیت کی اہمیت مجلس مشاورت کی کارروائی ختم ہونے پر حضور نے ایک مختصر سی تقریر کی جس میں نمائندگان جماعت کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: - میں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اُسے اپنی قربانی کے معیار کو بلند کرنا چاہئے۔میں نے بے شک نمائندگان کے لئے موصی ہونے کی شرط کو اُڑا دیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وصیت کی اہمیت کو نظر انداز کر دیا جائے۔اس وقت تک وصیت کی طرف جماعت کی بہت ہی کم توجہ ہے میرے نزد یک اب وقت آ گیا ہے کہ جماعت کے ہر فرد سے یہ اصرار کرنا چاہئے کہ وہ وصیت کرے۔اگر سب جماعت وصیت کر دے تو میرے نزدیک فوری طور پر دو تین لاکھ روپیہ کا چندہ میں اضافہ ہو سکتا ہے پھر اصل چیز جب کہ میں نے بار ہا بتایا ہے دعا ہے۔ہم نے تجربہ آیا کیا ہے کہ صرف چھیاسٹھ ہزار ، چالیس ہزار روپیہ نہیں آیا۔یہ ایک نہایت خطرناک بات ہے جس کی فوری طور پر اصلاح ہونی ضروری ہے۔اولا د کو جنت کا حقدار بنائیں میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ خالی آن کا جنت میں چلے جانا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو بھی جنت کا حقدار بنائیں۔اور اُن کے اعمال کی نگرانی رکھیں۔ابھی تک جماعت کی قربانی کے معیار کو جس حد تک ہم نے پہنچایا ہے وہ دنیا کی فتح کے لئے کافی نہیں اور اگر آئندہ نسل میں قربانی کی وہ روح نہیں ہوگی جو ہم پیدا کرنا چاہتے ہیں تو ہماری ساری جدو جہد اکارت چلی جائے گی۔پس اپنی اولادوں اور جماعت کے نو جوانوں اور نئے آنے والوں میں یہ روح پیدا کرو کہ بجائے قربانی میں کم ہونے کے وہ ہی اصل مسودہ میں سے ایک صفحہ missing ہے اس لئے اس جگہ۔۔۔۔۔ڈالے گئے ہیں۔مرتب