خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 373

خطابات شوری جلد سوم ۳۷۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء مولیاں خریدتا اور پھر کوئی نقصان ہو جاتا تو میرا فرض تھا کہ میں اُس نقصان کو برداشت کرتا کیونکہ وہ میری طرف سے یہ کام کرنے کے لئے مقرر تھا۔لیکن جس کام کے لئے وہ مقرر نہیں اگر اُس میں اُسے نقصان ہو جاتا ہے تو نتیجہ لازماً اُس کو بھگتنا پڑے گا۔پس یہ طریق نہایت خطرناک ہے اور اسے ہرگز اختیار نہیں کیا جاسکتا۔اصل تجویز صرف ایک ہے کہ آئندہ مجلس مشاورت کے ہر ممبر کے لئے موصی ہونا لازمی قرار دیا جائے۔اگر کوئی دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہوں تو وہ اپنا نام لکھوا دیں۔دو حضور کے اس ارشاد پر جب چند نمائندگان اظہارِ خیالات کر چکے تو فرمایا : - دوستوں نے مختلف احباب کے خیالات سُن لئے ہیں جو احباب اس امر کی تائید میں ہوں کہ شورای کی ممبری کے لئے وصیت کا ہونا ضروری ہونا چاہئے جیسے اختر صاحب کی 66 تجویز ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔‘“ اس پر ۱۸۸ دوست کھڑے ہوئے۔جو دوست اس رائے کے حق میں ہوں کہ شورای کی ممبری کے لئے وصیت کی قید نہیں ہونی چاہئے وہ کھڑے ہو جا ئیں۔“ ۵۶ دوست کھڑے ہوئے۔آراء شماری کے بعد حضور نے فرمایا : - مجلس شوری کی ممبری کے لئے وصیت ضروری نہیں کثرت رائے کا مشورہ یہ ہے کہ شوری کی ممبری کے لئے وصیت کی شرط ہونی چاہئے لیکن میں آج اپنی عادت کے خلاف فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک شوری کی ممبری کے لئے قیود ضرور زیادہ ہونی چاہئیں موجودہ قیود کافی نہیں مگر اس کی ممبری کے لئے موصی ہونے کی شرط میرے نزدیک بلا ضرورت اور بلا فائدہ ہوگی اس لئے کہ شوریٰ کے ممبر بہت ہی کم ہوتے ہیں اور اُن کی قربانی ہمارے بجٹ کے معیار کو اونچا نہیں کر سکتی۔دوسرے وہ لوگ جو مختلف جماعتوں کی طرف سے شوریٰ میں شامل ہونے کے لئے آتے ہیں اُن میں سے کافی تعداد پہلے ہی موصی ہوتی ہے اس لئے اس شرط کو عائد کر دینے سے چندوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑسکتا۔“ 66