خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 369
خطابات شوری جلد سوم ۳۶۹ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء منگوا کر دیکھے۔مگر حسابات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ وہ نہایت محنت اور دیانتداری کے ساتھ کام کرتے ہیں۔میں وہاں کی جماعت کی ایک لسٹ ساتھ لایا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا پر ابھی کافی گنجائش ہے۔تمام چندے ملا کر موجودہ حالت میں جماعت راولپنڈی کا چندہ ۵۴ ہزار کے قریب ہے لیکن اگر کوشش کی جائے اور جماعت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تو یہ چندہ ۷۰،۶۰ ہزار تک بڑھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ انہیں ایک آدمی مل جائے جو سیکرٹری صاحب کے ساتھ مل کر کام کرے۔میں نظارت بیت المال کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ فی الحال کراچی اور سیالکوٹ کو مزید سہولتیں بہم پہنچائے۔سیالکوٹ کی جماعت کے چندہ میں بھی ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔لیکن جب تک انتظام نہ ہو چندہ پوری طرح وصول نہیں کیا جاسکتا۔اوّل تو ہر جماعت میں کمزور افراد موجود ہوتے ہیں۔دوسرے تاجر لوگ اپنی آمد میں صحیح نہیں لکھواتے۔جب کہ وہاں کے پریذیڈنٹ صاحب نے بھی ایک دفعہ میرے پاس شکایت کی تھی میں سمجھتا ہوں کہ اس حقیقت کو مدنظر رکھ کر ۱۰ فیصدی تک اُن کو امداد دے دی جائے کچھ تو وہاں کا سکول بہت اچھا کام کر رہا ہے۔اگر اس کی طرف اور توجہ دی جائے تو اس سے بھی اچھا کام لیا جا سکتا ہے۔اس طرح کچھ تو سکول کے بارہ میں اُن کو سہولت ہو جائے گی اور کچھ حصہ گرانٹ کا وہ وصولی پر خرچ کر سکیں گے۔میرے نزدیک اگر سیالکوٹ کی جماعت کو ۱۰ فیصدی تک گرانٹ دے دی جائے تو اُن کے پاس ۳۰۰ ماہوار رقم بچ سکتی ہے جس میں سے وہ سو سکول پر اور دو سو تحصیل چندہ پر خرچ کر سکیں گے۔کراچی کی جماعت کو اگر پانچ فیصدی گرانٹ دے دی جائے تو وہ اپنے نظام کو زیادہ اچھا بنا سکیں گے۔اگر پانچ فیصدی گرانٹ ملے تو چھ ہزار تو فوری طور پر انہیں مل جائے گا اور پھر آمدن میں اس سے بھی زیادہ ترقی ہو سکتی ہے اور اس رقم سے وہ اپنے نظام کو اور بھی ا مضبوط بنا سکتے ہیں۔اور تحصیل چندہ کے کام میں بھی خرچ کر سکتے ہیں۔تیسرے نمبر پر راولپنڈی کی جماعت ہے اگر چندے کا پانچ فیصدی حصہ اُن کو بھی بطور مدد دے دیا جائے تو یہ بھی بہت مفید ہو سکتا ہے۔انہیں چندے کا پانچ فیصدی مل جانے کے یہ معنے ہوں گے کہ انہیں ۳۰۰ روپے ماہوار بطور مددمل جائے گا۔اور وہ ایک ایسا آدمی رکھ سکیں گے جو آنریری طور پر کام کرنے والے سیکرٹری مال کی مدد کر سکے گا۔