خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 368

خطابات شوری جلد سوم ۳۶۸ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء مگر انہیں وہ کلرک نہیں دیا گیا۔میرے سامنے اُن کا یہ مطالبہ نہیں آیا اور میں نہیں کہہ سکتا کہ اُن کا یہ مطالبہ صحیح تھا یا غلط۔جہاں تک مجھے معلوم ہے ان کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں حیثیت کے مطابق کلرک نہیں ملتا غالباً صدر انجمن احمدیہ نے اس کلرک کا ۳۰ +۴ اگر یڈ رکھا ہوگا۔سو ان کا مطالبہ یہ ہوگا کہ ہمیں اس گریڈ پر کلرک نہیں مل سکتا اور یہ معقول بات ہے۔صدر انجمن احمد یہ کو اس پر غور کرنا چاہئے۔کراچی کی جماعت کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ اچھا چندہ دیتی ہے لیکن وہ اس حیثیت پر نہیں پہنچی جہاں اُسے پہنچنا چاہئے۔اگر وہاں کی جماعت دیانتداری کے ساتھ چندہ دے تو چندہ کی مقدرا موجودہ مقدار سے یقیناً بڑھ سکتی ہے۔میرے سامنے یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کراچی کی جماعت کی اکثریت نے ۴ را حصہ چندہ دینا شروع کر دیا ہے۔اگر یہ بات درست ہوتی تو جماعت کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے اور ایک آدمی کی اوسط آمدن دوسو روپیہ ماہوار ہوتی ہے۔اب گر تمام جماعت اپنی آمدن کا ۱٫۴ حصہ بطور چندہ دے تو اس کی معنے یہ ہیں کہ اُس کی طرف سے تین لاکھ چندہ آنا چاہئے۔اگر وصیت اور ۲۵ فیصد کے درمیان کی اوسط رکھی جائے جو ہرا ۱۷ فیصدی بنتی ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمیں دو لاکھ دس ہزار چندہ ملنا چاہئے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کی ماہوار آمد کی صحیح اوسط نکالی جائے تو وہ دوسو سے زیادہ ہی نکلے گی کیونکہ کراچی کی جماعت کے اکثر افراد ایسے ہیں جن کی بڑی بڑی تنخواہیں ہیں۔بہر حال جو بڑے بڑے شہر ہیں اُن کے لئے خاص انتظام ہونا چاہئے ہم دیکھتے ہیں چھوٹے چھوٹے شہروں میں ٹاؤن کمیٹیاں ہوتی ہیں اُن سے بڑے شہروں میں میونسپل کمیٹیاں ہوتی ہیں اور پھر اُس سے بڑے شہروں میں میونسپل کمیٹیوں کی بجائے کار پوریشن بن جاتی ہے۔جو شہر کا انتظام کرتی ہے۔لنڈن کا انتظام ایک کونسل کے ماتحت ہے۔لنڈن کی کونسل کے انتخابات پر یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ ملک کی آئندہ حکومت کیا ہوگی۔غرض کراچی اور لاہور کی جماعتوں کے لئے خاص انتظام کی ضرورت ہے میرے نزد یک راولپنڈی بھی ایک ایسا شہر ہے جس کے لئے خاص انتظام کی ضرورت ہے۔راولپنڈی کا چندہ کم تو نہیں ہاں تشخیص کے لحاظ سے کم ہے وہاں کے سیکرٹری مال نہایت محنت سے کام کرتے ہیں۔مجھے پہلے کچھ شبہات تھے اس لئے میں نے اُن کے رجسٹر