خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 357
خطابات شوری جلد سوم ۳۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء ہے کتنا بھی پھیلا کر دیکھوں مجھے وہ لوگ احمدی نظر نہیں آتے اور مجھے کوئی صورت ایسی نظر نہیں آتی جس کی بناء پر میں انہیں سچا مسلمان قرار دے سکوں۔ان میں سے ایک ضلع ملتان ہے جس کی طرف سے ۳۶ ہزار روپیہ میں سے صرف چھ ہزار روپیہ وصول ہوا ہے حالانکہ ملتان کے ضلع کی آبادی غریب نہیں۔یا تو وہ تاجر ہیں اور یا اس قسم کا کاروبار کرتے ہیں کہ اگر اُن کے اندر ایک ذرہ بھی قوم کی خدمت کا احساس ہوتا اگر اُن کے اندر ایک ذرہ بھر بھی جماعت کی محبت کا مادہ ہوتا بلکہ میں کہتا ہوں اگر احمدیت کے مرکز کی حفاظت کا انہیں اتنا بھی درد ہوتا جتنا چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتا ہے تو وہ اتنا بُرا نمونہ نہ دکھاتے کہ ۳۶ ہزار کے وعدے میں سے صرف چھ ہزار روپیہ ادا کرتے۔اس قسم کے نمونے بعض اور جماعتوں نے بھی دکھائے ہیں حالانکہ جب وعدے لئے گئے تھے اُس وقت لوگ اس طرح نعرے مار مار کر وعدے کرتے تھے کہ اُنہیں روکنا پڑتا تھا بہر حال بعض لوگوں نے تو اپنے وعدے پورے کر دیئے مگر بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے وعدے پورے نہیں کئے وہ اب یہ عذر کرتے ہیں کہ ہم مشرقی پنجاب سے کٹ لگا کر اس طرف آگئے ہیں اب ہم اپنے وعدے کو کس طرح پورا کریں حالانکہ اس وعدہ کی میعاد صرف چھ ماہ یا سال تھی جب ۱۹۴۷ء میں ہم مغربی پنجاب میں آئے تو اُس وقت تک وعدہ کی میعاد میں سے ایک بڑا وقت گزر چکا تھا۔پھر ان وعدہ کرنے والوں میں کئی ایسے تھے جو پاکستان کے رہنے والے تھے اُن کی جائیداد میں نہ صرف گلی طور پر محفوظ رہی ہیں۔۔۔قادیان کی عزت اور احترام اور سلسلہ کی عزت اور احترام کے لئے انہوں نے اپنی جائیداوں کی قیمت کا ایک فیصدی دینے کا وعدہ کیا مگر اِس وعدہ کو بھی انہوں نے اب تک پورا نہیں کیا۔منہ سے کہتے جانا کہ ہماری جان اور مال حاضر ہے اور عمل ایسا ناقص پیش کرنا ہر گز کسی بچے مومن کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔بھلا اُس جان اور مال کو لے کر کسی نے کرنا کیا ہے جس کی ایک کوڑی بھی قیمت نہ ہو اور جس کے ساتھ صرف زبانی دعوی ہی شامل ہو۔پس سب سے پہلے تو کوئی ایسی تدبیر کرنی چاہئے جس سے اس قسم کے نادہندوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ کارکنوں کا اور کچھ ضلع کی انجمنوں کا بھی