خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 354
۳۵۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء خطابات شوری جلد سوم در حقیقت اُس روایتی گتے کی سی ہوتی ہے جس کا قرآن کریم میں ان الفاظ میں ذکر آتا ہے کہ اگر اُس پر پتھر اٹھاؤ تب بھی وہ اپنی زبان نکال کر ہانپتا ہے اور اگر نہ اٹھاؤ تب بھی ہانپتا ہے۔بہر حال وہ ایک مصیبت میں مبتلا رہتا ہے اسی طرح ایسے لوگوں سے چندہ مانگو تو بھی اور نہ مانگو تو بھی وہ اپنی حالت پر قائم رہتے ہیں اور کسی قسم کا تغیر پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ہماری جماعت آجکل جس قسم کے مصائب میں سے گزر رہی ہے وہ دوسروں سے بالکل مختلف ہیں اُن میں مقابلہ کی طاقت ہوتی ہے کیونکہ اُن کے بجٹ کی بنیاد حقیقی بنیاد پر نہیں بلکہ آمد کے سینکڑویں حصہ پر ہوتی ہے لیکن ہمارا بجٹ آمد کے متعدیہ حصہ پر ہوتا ہے پس ہمیں اگر اپنا بجٹ بڑھانے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لئے بہت بڑے حوصلہ اور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے اور ایمان کی زیادتی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوتی ہے۔ایک شخص جو ہزار دو ہزار روپیہ ماہوار کماتا ہے مگر چندہ صرف دو چار روپے دیتا ہے اُس سے اگر ہم دس بیس روپے لینا چاہیں تو صرف اُس کے قومی جذبات کو ابھار دینا کافی ہوگا اس کے لئے یہ ضرورت نہیں ہوگی کہ اُس کے ایمان کو بڑھانے کی کوشش کی جائے لیکن جو شخص پہلے ہی دس پندرہ فیصدی چندہ ادا کر رہا ہے اُس سے اگر ہم اس سے بھی زیادہ چندے کا مطالبہ کرتے ہیں تو اس کو پورا کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی صرف خدا ہی ہے جو انسان کو ایسی قربانیوں پر آمادہ کر سکتا ہے پس آؤ ہم اپنے بجٹ پر غور کرنے سے پہلے اپنے رب کے سامنے جھکیں اور اس سے دعا کریں کیونکہ دلوں کا مالک وہی ہے اور قلوب کی تبدیلی اس کے اختیار میں ہے۔یوں بھی ہماری جماعت دنیا میں ایمان قائم کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے اور ایمان ہی اُس کی حقیقی دولت ہے پس اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمارے اندر ایسا ایمان پیدا کرے جس سے ہماری کشتی بھنور میں سے نکل جائے اور سلامتی کے ساتھ کنارے پر پہنچ جائے۔افتتاحی تقریر تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: -