خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 353

خطابات شوری جلد سو ۳۵۳ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۴۹ء منعقدہ ۱۵۔/اپریل ۱۹۴۹ء۔بعد نماز عشاء تارات ۱۲ بجے بمقام ربوہ ) پہلا دن ۶،۱۵ اراپریل ۱۹۴۹ء کی درمیانی شب نماز عشاء تا رات ۱۲ بجے زنانہ جلسہ گاہ ربوہ میں دعا مجلس مشاورت کا اجلاس منعقد ہوا۔تلاوت قرآن کریم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے کی۔اس کے بعد حضور نے اپنے کلمات طیبات سے اس اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے دُعا سے متعلق فرمایا: - آؤ ہم اپنے بجٹ پر غور کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں وہ ہمارے اندر حقیقی انقلاب پیدا کر دے۔جلسہ کی کارروائی شروع کرنے سے پہلے جیسا کہ ہمارا طریق ہے میں دوستوں کے ساتھ مل کر دُعا کرنا چاہتا ہوں اور اُنہیں اِس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ایام دعاؤں کے اور بھی زیادہ حقدار ہیں اور اُن کا ہم سے تقاضا کرتے ہیں۔بعض جماعتیں ایسی ہوتی ہیں جو روپے والی ہوتی ہیں۔اگر اُن کے افراد اپنی طاقت سے بہت کم چندہ دیں تب بھی اُن کے پاس اس بات کی گنجائش ہوتی ہے کہ ضرورت پر امراء خاص سے عطیہ لے کر اپنی حاجات کو پورا کر لیں لیکن ہماری جماعت غریبوں کی جماعت ہے۔اکثر مخلصین اپنی حیثیت کے مطابق با قاعدہ چندہ دیتے ہیں اور جومخلصین نہیں اُن سے کسی قسم کی اپیل یا خواہش ہونا صدا بصحراء ہوتا ہے۔پس جو دینے والے ہیں وہ پیسے ہی دیتے ہیں اور جو دینے والے نہیں اُن سے زیادہ مانگو تو بھی اور کم مانگو تو بھی وہ نہ دیتے ہیں اور نہ اس طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اُن کی مثال