خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 20
خطابات شوری جلد سوم مشاورت ۱۹۴۴ء اپنے آنسوؤں کو پونچھ رہا ہے اپنے چہرہ کو بشاش بنا رہا ہے۔اس کے افکار پریشان ہیں اور ہم اور غم اس کے دل پر چھایا ہوا ہے مگر وہ اپنے ہم اور اپنے غم اور اپنے افکار کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ اپنے جذبات کو دبا کر دین کی خدمت کرتا چلا جاتا ہے۔پس بے شک دنیا میں مشکلات اور تکالیف آتی ہیں اور آتی چلی جائیں گی مگر جو سچا مومن ہوتا ہے وہ ان مشکلات اور تکالیف کی پرواہ کئے بغیر اپنے رب کی طرف محبت اور جوش سے بڑھتا چلا جاتا ہے اور جب خدا کی آواز اُس کے کانوں میں پڑتی ہے وہ یہ نہیں کہتا کہ ٹھہرو اور مجھے صبر کرنے دو، ٹھہرو اور مجھے پینے گھر کی مصیبتوں سے تھوڑی دیر کے لئے نپٹنے دو، ٹھہرو اور مجھے اپنے بچوں اور عزیزوں کے کاموں کی طرف تھوڑی دیر کے لئے متوجہ ہونے دو بلکہ وہ خواہ کیسے ہی رنج میں ہو، کیسی ہی مصیبت میں ہو، کیسے ہی دکھ میں ہو جب خدا تعالیٰ کی آواز اس کے کان میں پڑتی ہے وہ لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّیک کہتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے کہ اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔اے میرے رب ! میں حاضر ہوں۔احزاب کی جنگ میں جب دشمن بڑا طاقتور تھا اور مسلمانوں کی حالت نہایت غربت اور بیکسی کی تھی ، شدید سردی کا موسم تھا اور غریب مسلمانوں کے پاس اپنا تن ڈھانکنے کے لئے بھی کپڑا نہیں تھا ایک رات اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے تیرے دشمن کو بھگا دیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس الہام کے نازل ہونے کے بعد صحابہ کو آواز دی اور فرمایا کہ کوئی ہے؟ ایک صحابی کہتے ہیں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آواز دی اُس وقت میں جاگ رہا تھا مگر میری زبان یخ ہو رہی تھی اور میرا جسم بھی یخ ہو رہا تھا کیونکہ میرے پاس کپڑے کافی نہ تھے اور موسم نہایت شدید سر د تھا، چنانچہ باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کان میں پڑ رہی تھی ، ہم جو آپ پر جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے تھے اُس وقت ہماری زبان سے کوئی بات تک نہیں نکلتی تھی۔میں نے چاہا کہ بولوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کا جواب دوں مگر میری زبان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ میں جواب دے سکتا لیکن ایک اور صحابی بول اُٹھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے اس کے جواب کو سنا مگر خاموش رہے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے