خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 342

خطابات شوری جلد سوم ۳۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء تھے۔اب سوال یہ ہے کہ بارہ صفحات کا زائد خرچ اُنہوں نے الگ کیوں نہیں دکھایا تا کہ اگر چار صفحات زائد نہ کئے جاتے تو اتنا خرچ کا ٹا جا سکتا مثلاً ایک مدرس کی جگہ اگر دو مدرس رکھنے ہوں تو بجٹ کا کیا قاعدہ ہے۔آیا یہ قاعدہ ہے کہ سو کی بجائے دوسو تنخواہ دکھا دیتے ہیں یا یہ قاعدہ ہے کہ زائد مدرس الگ دکھایا جاتا ہے۔اگر اُن کے اندر نیک نیتی پائی جاتی تو اُن کو چاہیے تھا کہ اتنی رقم جو زائد خرچ ہو سکتی تھی اُس کی علیحدہ منظوری لیتے اور کہتے کہ اگر ہم نے اخبار کے بارہ صفحے کر دیئے تو اس کی اتنی کتابت اور اتنی طباعت بڑھ جائے گی اور اتنا کاغذ کا خرچ زائد ہو جائے گا ، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔بات یہ ہے کہ سمجھ لیا گیا ہے کہ یہ شور مچا کر کہ اخبار مقروض ہے ہمیں امدادل جائے گی اور اصل بات بیچ میں غائب ہو جائے گی اور اگر سستی سے ہم نے کچھ زائد خرچ بھی کر لیا تو وہ اس میں چُھپ جائے گا ، پس میرے نزدیک الفضل کا بجٹ بہت کچھ قابل اصلاح ہے میں اس بجٹ کے متعلق ایک سب کمیٹی مقرر کروں گا۔تاکہ وہ چھان بین کر کے اخراجات کو کم کرے۔میرے نزدیک اس کے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور کسی صورت میں بھی وہ اخراجات اس حد تک نہیں پہنچ سکتے جس حد تک دکھائے گئے ہیں۔کہہ دیا گیا ہے کہ جو زائد خرچ ہے وہ سلسلہ بطور امداد دے۔مگر سوال یہ ہے کہ وہ امداد کتنی ہوگی۔جو آمد بتائی گئی ہے دراصل وہ بھی زائد ہے ظاہر یہ کیا گیا ہے کہ ۷۶ ہزار روپے آمد ہوگی۔مگر واقع یہ ہے کہ اگر آمد اور خرچ کو مدنظر رکھا جائے تو - ۶۳۰۰۰ روپے کی امداد ہمیں دینی پڑے گی اور تریسٹھ ہزار روپیہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے ایک کالج چلایا جا سکتا ہے۔دراصل الفضل جس اصول پر چل رہا ہے وہ غلط ہے تجارتی اصول تو یہ ہوتا ہے کہ مثلاً ایک کارخانہ اگر سو چیز روزانہ بناتا ہے تو وہ جانتا ہے کہ اس پر مجھے اتنا نفع آئے گا ، فرض کرو وہ ایک روپیہ سینکڑہ نفع مقرر کرتا ہے تو یہ نفع اُس کا یقینی ہے دوسو بنائے گا تو دو روپیہ نفع مل جائے گا وہ پانچ سو بنائے گا تو پانچ روپیہ نفع مل جائے گا گویا جتنی پیداوار بڑھتی جائے اُتنا ہی نفع بڑھتا جائے گا لیکن الفضل کی موجودہ حالت کو اس طرح چیک نہیں کیا گیا بلکہ اگر اُس کی دس ہزار خریداری ہو تب بھی وہ گھاٹے میں ہی رہے گا حالانکہ کسی اخبار کے اگر تین ہزار خریدار ہوں تو نفع والا اخبار سمجھا جاتا ہے۔میں نے خود ایڈیٹروں اور مینیجروں سے باتیں کی ہیں اور اُنہوں نے کہا ہے کہ تین ہزار خریدار پر اخبار