خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 341

خطابات شوری جلد سوم ۳۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء دوڑاتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ اُس کا ایمان کمزور ہے مومن اپنے ایمان کے مظاہرہ کے لئے کسی ساتھ کا محتاج نہیں ہوتا۔جس شخص کے دل میں کسی سہارے کی احتیاج محسوس ہوتی ہوا سے یاد رکھنا چاہیے کہ اپنے کام میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔دینی کام دینی روح کے ساتھ ہوتے ہیں ، جو شخص خدا کے کام کے لئے کھڑا ہوتا ہے وہ دائیں بائیں نہیں دیکھتا اُس کے بیوی بچے اُس کے ساتھ ہوں تو وہ خوش ہوتا ہے اور اگر نہ ہوں تو وہ سمجھتا ہے کہ خدا سے بڑھ کر میرا مطلوب اور کوئی نہیں میرا کام یہی ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتا چلا جاؤں خواہ کوئی اور شخص میرا ساتھ دیتا ہے یا نہیں دیتا۔وصولی چندہ کے لئے وفود بھجوائے جائیں چوہدری عبداللہ خان صاحب نے کہا ہے کہ دیہات میں ہر چھ ماہ کے بعد وفد بجھوائے جائیں تا کہ جو چندہ وصول ہونے سے رہ گیا ہو وہ اس صورت میں وصول ہو جائے۔یہ تجویز بہت معقول ہے بلکہ میرے نزدیک دیہات میں ہی نہیں شہروں میں بھی وقتاً فوقتاً ایسے وفد بجھواتے رہنا چاہئے۔مگر لاہور والا وفد نہ ہو کہ چھ مہینے گزر گئے اور ابھی تک وہ چندوں کی لسٹ بھی مرتب کر کے نہیں دے سکا۔موجودہ کارکنان کی تربیت کی ضرورت ہے بابوفیر علی صاحب نے کہا کہ محکمہ تربیت کو بڑھانا چاہیے۔محکمہ تربیت کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے مگر موجودہ آدمیوں کی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے اگر یہ ہو جائے تو کام خود بخو دٹھیک ہو جائے گا۔الفضل“ کے معاملات الفضل کے متعلق میاں عبدالمنان صاحب نے جو کچھ کہا ہے، وہ میرے نزدیک بالکل درست ہے۔نائب ناظر صاحب بیت المال مشورہ کے لئے کراچی آئے تھے ، اُس وقت بھی میں نے الفضل کے متعلق انہیں توجہ دلائی تھی کہ اس کے خرچ کی مدات درست نہیں ، آپ جائیں اور دوبارہ اس کا جائزہ لیں۔مگر وہ میری بات کو سمجھے نہیں ، غالباً اس لئے کہ اُن کو تجربہ نہیں تھا۔حقیقت یہ ہے کہ الفضل کے معاملہ میں بہت کچھ اُلجھنیں ڈالی گئی ہیں جن کو میں پوری طرح نیک نیتی پر محمول نہیں کرسکتا ، وہ کہتے ہیں کہ اخراجات کے سلسلہ میں ہم نے اخبار کے بارہ صفحے مدنظر رکھے