خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 334

خطابات شوری جلد سوم ۳۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء میں نوکر ہوں اور تم نوکر رکھنے والے ہو، خلیفتہ المسیح کا کیا واسطہ ہے کہ وہ بیچ میں دخل دیں۔جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے اُس کو کہا کہ اگر اس معاملہ میں میرا دخل نہیں تو تم مجھے چٹھیاں کیوں لکھتے رہے ہو اور تم نے یہ دو رخی اور منافقانہ چال کیوں چلی کہ جب تم کو مجھ سے فائدہ پہنچ سکتا تھا تو تم نے مجھے لکھا کہ میرے معاملات میں دخل دیا جائے اور جب تم نے دیکھا کہ مجھ سے تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تم نے لکھا کہ خلیفہ امسیح کو اس معاملہ میں دخل دینے کا کیا حق ہے۔بجائے اس کے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرتے ، مجلس سے اُٹھتے ہی اُنہوں نے استعفے پیش کر دئے۔یہ حالات ہیں جن میں اُن نوجوانوں نے کالج کے کام کو چھوڑا اور میں خود اس معاملہ کی تحقیق کر چکا ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک نوجوان زندگیاں وقف نہیں کریں گے اُس وقت تک اس قسم کی مشکلات دور نہیں ہو سکیں گی۔“ ماہرین فن اساتذہ تیار کئے جائیں تعلیم الاسلام تعلیم الاسلام کالج کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا: - اب تک اگر کالج کے لئے لائق پروفیسر تیار نہیں ہو سکے تو اس کی ذمہ داری میرے نزد یک گلی طور پر پرنسپل پر ہے۔ایک شخص اگر پوری طرح اپنے فرائض کی ادائیگی میں Interest نہیں لیتا تو اس کا یقیناً اُس کو نقصان پہنچے گا۔وہ میرا لڑکا ہے لیکن خدا اور اُس کے رسول کے مقابلہ میں اگر ہزار لڑ کا بھی قربان ہو جائے تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔میں محسوس کرتا ہوں اور میں کھلے طور پر آج پبلک میں اس امر کا اظہار کرتا ہوں کہ میرے نزدیک وہ اپنے کام کی طرف اتنی توجہ نہیں کر رہا۔جتنی توجہ اس کو کرنی چاہیے۔میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ اس بات پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ وہ ایک لمبا عرصہ قادیان میں رہا اور اس نے لڑکوں کی پڑھائی کی طرف توجہ نہیں کی۔مگر یہ اعتراض منافقانہ ہے وہ ان دنوں سلسلہ کی حفاظت کے لئے رات اور دن کام کر رہا تھا اور جو شخص اپنی جان کو سلسلہ کے لئے قربان کر رہا ہو اور سلسلہ نے ہی اس کو اس کام پر مقرر کیا ہو اس پر اعتراض کرنا سوائے منافق کے اور کسی کا کام نہیں ہو سکتا۔مگر اس کے علاوہ بھی میں دیکھتا ہوں کہ اسے اپنے کام کے متعلق پورا شغف نہیں۔ڈاکٹر عبدالاحد صاحب ریسرچ کے افسر ہیں وہ بھی واقف زندگی ہیں اور ناصر احمد بھی واقف زندگی ہے مگر جب زندگی وقف کرنے والے آتے ہیں تو