خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 331

خطابات شوری جلد سوم ۳۳۱ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء بلکہ تمہارا جنون تمہارے صحیح خرچ میں ہو۔دنیا تم کو اس لئے پاگل نہ کہے کہ تم متجارت نہیں کرتے ، دنیا تم کو اس لئے پاگل نہ کہے کہ تم ملازمت نہیں کرتے۔دنیا تم کو اس لئے پاگل نہ کہے کہ تم صنعت و حرفت نہیں کرتے بلکہ دنیا تم کو اس لئے پاگل کہے کہ تم صنعت وحرفت کرتے ہومگر اُس سے خود فائدہ نہیں اُٹھاتے ، تجارت کرتے ہومگر اُس سے خود فائدہ نہیں اُٹھاتے ، ملازمت کرتے ہو مگر اُس سے خود فائدہ نہیں اُٹھاتے۔پس تم خدا پر توکل کرو اور اپنی زندگیوں کو ایسا بناؤ کہ تمہاری زندگیوں کا ماحصل صرف خدا اور اُس کا رسول ہو تم زندہ رہو تو خدا کے لئے اور مرو تو خدا کے لئے۔جیسے تمہارے آقا اور سردار حضرت محمد رسول اللہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے "قُل اِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَ مماتي لله رب العلمین لے تو کہہ دے میری نماز بھی اور میری قربانیاں بھی میری زندگی بھی اور میری موت بھی سب خدا کے لئے ہیں۔یہی ایمان ہے جس کا اسلام مطالبہ کرتا ہے ایمان اس کا نام نہیں کہ تم کمائی نہ کرو، ایمان اس کا نام نہیں کہ تم محنت نہ کرو۔تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم محنت نہ کرو۔اگر تم اپنی زندگی لغو کاموں میں ضائع کرتے ہو تو تم هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ “ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو۔اس لئے محنت تمہارے لئے ضروری ہے تجارت اور زراعت اور صنعت و حرفت سب تمہارے لئے ضروری ہیں اسلام جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ تم ان کاموں میں اپنے وقتوں کو بیشک خرچ کرو مگر اپنے لیے نہیں بلکہ خدا اور اُس کے رسول کے لئے اگر تم ایسا کرو تو وہ سارے وساوس دور ہو سکتے ہیں جو بولشوزم کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں دنیا وی ظلم دیکھ کر آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے جس پر مقدمہ ہو جاتا ہے اور اُس کی جان خطرے میں ہوتی ہے اُس شخص کو تم اگر سود کا مسئلہ سمجھاؤ تو وہ نہیں سمجھے گا لیکن اگر ہمسایہ کے متعلق سمجھاؤ تو سمجھ جائے گا۔اسی طرح تم اگر دنیا کو مصیبت زدہ سمجھ کر اسلام کے مسائل سمجھاؤ تو وہ اُن مسائل کو نہیں مانے گی لیکن اگر تم دُنیا پر ثابت کر دو کہ تم خدا کے لئے جیتے ہو اور خدا کے لئے مرتے ہو اور اُسے کہو کہ میرے پاس جو کچھ تھا وہ میں نے تمہیں دے دیا اب میں بتا تا ہوں کہ اسلام اس طرح کہتا ہے تو وہ تمہاری بات سن لے گا لیکن وہ سمجھے گا کہ وہ خود غرضی سے ایسا نہیں کہہ رہا اور در حقیقت ایسی زندگی ہی حقیقی امن اور حقیقی خوشحالی پیدا کرتی ہے۔