خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 327
خطابات شوری جلد سوم ۳۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء مگر ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ایک شخص آیا اور اُس نے کہا فلاں رئیس نے یہ رقم آپ کو تحفہ کے طور پر بھجوائی ہے اُنہوں نے گئی تو ۲۵ - ۲۶ روپے تھی اُنہوں نے وہ رقم لپیٹ کر اُسے واپس کر دی اور کہا کہ یہ میری نہیں ہوگی کسی اور کی ہوگی۔اُس نے لیتے ہی کہا اوہو! مجھ سے غلطی ہوگئی آپ کی رقم تو اس جیب میں ہے اور جب اُس نے وہ رقم نکالی تو وہ آنوں سمیت اُتنی ہی تھی جتنی وہ شخص مانگتا تھا۔اب دیکھو جب اُن کے پاس ایک غلط رقم پہنچی تو وہ اُنہوں نے رکھ نہیں لی وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کو میرے متعلق غیرت ہے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اب جبکہ مجھے مجلس میں ذلیل کیا گیا ہے خدا میرے متعلق اپنی غیرت ضرور دکھائے گا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ میرا قرضہ ۳۱ روپے ۱۰ آنے ہے اس لئے جب اُن کو ۲۶ روپے ملے انہوں نے وہ رقم واپس کر دی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ میری رقم نہیں ہوسکتی اگر میری رقم ہوتی تو اس روپے ۱۰ آنے ہوتی جس کی مجھے ضرورت تھی جب اُنہوں نے ۲۶ روپے واپس کئے تو انہیں ۳۱ روپے ۱۰ آنے بھی مل گئے اور وہ جو ان کو ٹھگ اور بددیانت کہہ رہا تھا اُس کو بھی خدا نے ان کی بزرگی کا نشان دکھا دیا۔اگر ۲۶ روپے وہ رکھ لیتے تو شاید قرض خواہ ۲۶ روپے لے کر چلا جا تا مگر ہر شخص یہ سمجھتا تھا کہ یہ ایک اتفاقی معاملہ ہے مگر اُنہوں نے ۲۶ روپے واپس کئے اور جب واپس کئے تو انہیں ۳۱ روپے ۱۰ آنے مل گئے اس لئے اگر جماعت میں کوئی ایسا شخص داخل ہوا ہے جو ہمارا نہیں تو اُسے واپس کر ولوگوں کا جو تا بدل جاتا ہے تو کوئی بے ایمان ہی ہوتا ہے جو کسی دوسرے کا اچھا جوتا پہن کر آ جاتا ہو ورنہ ہر شریف آدمی آواز دیتا ہے کہ میرا جو تا بدل گیا ہے جو شخص غلطی سے میرا جوتا لے گیا ہے وہ اپنی چیز لے جائے اور میری چیز دے جائے تم ایک جوتے کے بدلنے کی فکر کرتے ہو تم ایک بدلی ہوئی سوئی کو اپنے پاس رکھنے کو تیار نہیں ہوتے مگر انسان تمہارے پاس غلطی سے آجاتا ہے تو تم کہتے ہو رہنے دو اگر اُس میں وہ روح نہیں پائی جاتی جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی تو وہ ہماری چیز نہیں وہ ہمارا آدمی نہیں تم اس عادت کو ترک کرو اور خالص خدا تعالیٰ کے بندے بن جاؤ اور یا درکھو کہ جو شخص خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے اُسے ہر جگہ وہ اُس کی چیز ہی دیتا ہے۔میرے ساتھ کئی ایسے واقعات گزرے ہیں بعض دفعہ مذاق میں میں نے ایک بات