خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 326
خطابات شوری جلد سوم ۳۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء دسترخوان میں لپیٹ کر رکھ دیتے ہیں تا کہ شام کو کام آئیں۔مگر کیا کبھی کسی نے یہ بھی کیا ہے کہ پاخانہ لپیٹ کر رکھ دے؟ تم کیوں ایسا نہیں کرتے۔اس لئے کہ تم سمجھتے ہو کہ پاخانہ ایک بیکار اور گندی چیز ہے۔اسی طرح وہ احمدی جو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرتا ، جو اُن ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتا جو خدا کی طرف سے اُس پر عائد ہوتی ہیں۔جو خدا کے ساتھ ایک وفادار بندے کی حیثیت سے نہیں رہتا وہ پاخانہ سے بھی بد تر اور ذلیل چیز ہے۔تم کیوں اس کو اپنے ساتھ لٹکائے پھرتے ہو۔میرے نزدیک اس بارہ میں گلی طور پر صدرانجمن احمد یہ اور ناظر صاحب بیت المال پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔وہ مشرک ہیں وہ انسانوں پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انسانوں کے ساتھ جیتیں گے۔حالانکہ ہم انسانوں کے ساتھ نہیں جیتیں گے ہم خدا کے ساتھ جیتیں گے۔اگر کوئی انسان غلطی سے ہماری طرف آ گیا ہے اور درحقیقت وہ ہمارا نہیں تو ہم نے اس کو اپنے پاس رکھ کر کیا کرنا ہے۔ڈاک بعض دفعہ غلط طور پر بھی تقسیم ہو جاتی ہے۔مگر کیا ایسی صورت میں ہم دوسرے کا خط اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ہم دوسرے کی چٹھی اپنے پاس نہیں رکھتے بلکہ اسے واپس کر دیتے ہیں۔اسی طرح اگر غلطی سے کوئی شخص ہمارے پاس آجاتا ہے فرشتوں نے اس کا نام ہماری جماعت میں نہیں لکھا تو تمہارا کام یہ ہے کہ تم اسے واپس کرو جب تم واپس کرو گے تو تمہاری چیز تمہیں مل جائے گی۔پرانے بزرگوں کے واقعات میں ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ایک بزرگ تھے وہ مجلس میں بیٹھے تھے ایک شخص اُن کے پاس آیا اُنہوں نے ۳۱ روپے ۱۰ آنے اُس سے بطور قرض لئے تھے اور اُس قرض کی ادائیگی میں دیر ہو گئی تھی مجلس میں آکر اُس شخص نے تقاضا کیا کہ میرا قرض مجھے ادا کیا جائے مجھے اس وقت روپے کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے میں نے قرض لیا ہوا ہے اور میں انشاء اللہ جلدی ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔اُس نے کہا میں انشاء اللہ ، انشاء اللہ نہیں جانتا میں اُٹھوں گا نہیں جب تک آپ مجھے روپیہ نہ دے دیں اور پھر اُس نے بدگوئی شروع کر دی کہ یہ بزرگ بنا پھرتا ہے لیکن ایسا بے ایمان اور بددیانت ہے کہ روپیہ لیتا ہے اور پھر ادا کرنے کا نام ہی نہیں لیتا۔وہ چپ کر کے بیٹھے رہے آخر غلطی اُنہی کی تھی اُنہوں نے قرض لیا تھا اس کو واپس کرنے کا بھی فکر کرنا چاہیے تھا