خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 325
خطابات شوری جلد سوم ۳۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء دیتے رہنا۔۲۵ سال گزر گئے اُس جماعت کا یہی حال ہے کہ پچھلا معاف اور ا گلا صاف۔بات یہ ہے کہ شرک انسان کو خراب کرتا ہے لوگ ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے فلاں کو سزا دی تو وہ جماعت سے نکل جائے گا اور اس سے کام خراب ہو جائے گا لیکن جو سچا خدا پرست ہو وہ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتا وہ جانتا ہے کہ خدا کا بندہ اکیلا آتا ہے اور اکیلا جاتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کہا ہے کہ اگر لوگ تمہاری بات نہیں مانتے تو کپڑے جھاڑو اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کو چلے جاؤ۔اس طرح جماعت میں شامل رہنے کے بعد اگر کچھ لوگ چندہ نہیں دیتے تو تم بے شک اُن کو الگ کر دو اُن کے ساتھ رہنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔سندھ جانے سے پہلے ایک جماعت کے متعلق جو بڑی بھاری جماعت ہے مجھے اطلاع ملی کہ اس کے افراد آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور پانچ چھ مہینے کے بعد مرکز کو لکھ دیتے ہیں کہ ہماری طرف کوئی انسپکٹر بھجوائیں۔انجمن انسپکٹر بھجوادیتی ہے مگر وہ پھر اپنے جھگڑوں سے باز نہیں آتے۔اسی دوران میں ایک شخص کا خط آیا کہ پانچ سال سے اس جماعت نے چندہ نہیں دیا انجمن نے کہا ہم اس جماعت میں اپنا مبلغ بھیجتے ہیں تا وہ انہیں اصلاح کی طرف توجہ دلائے۔میں نے کہا میرا حکم یہ ہے کہ مبلغ بے شک جائے مگر پہلے اُن سے یہ کہے کہ یا تو پچھلے پانچ سال کا چندہ دو اور یا تم سب کے سب جماعت سے الگ کر دیئے جاؤ گے۔اس کے بعد میں سندھ چلا گیا اب مجھے اطلاع ملی ہے کہ اُس جماعت کی طرف سے ایک ہزار پچاس روپیہ چندہ آیا ہے حالانکہ پانچ سال سے اس نے ایک پیسہ نہیں دیا تھا۔آخر ہر جماعت میں کچھ نہ کچھ مخلص بھی ہوتے ہیں انہیں جب معلوم ہوا کہ اگر اب بھی ہم نے اصلاح نہ کی تو ہمیں جماعت سے الگ کر دیا جائے گا تو اُنہوں نے چندہ دے دیا اس پر ہمارا فرض ہے کہ ہم مضبوط نگرانی رکھیں اور جو لوگ اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتے ان کے متعلق رپورٹ کی جائے تاکہ سلسلہ اُن کے جماعت سے الگ کرنے کا فیصلہ کرے۔آخر جو بے کار وجود ہے اُسے ہم نے اپنے ساتھ لٹکا کر کیا کرنا ہے۔پنجاب میں رواج ہے کہ چاولوں پر شکر ڈال کر کھاتے ہیں شکر بچ جاتی ہے تو وہ پڑیا باندھ کر رکھ دیتے ہیں تا کہ کسی اور وقت کام آئے اسی طرح صبح کا کھانا پکاتے ہیں۔دو روٹیاں بچ جاتی ہیں تو