خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 316

خطابات شوری جلد سوم مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء کہ اچھا ہزار روپیہ ڈاک کی مد میں بڑھا دیں پھر کہیں گے کہ فلاں محکمہ میں رجسٹر نہیں ہم حساب بند کر دیں یا جاری رکھیں؟ یہ لازمی بات ہے کہ میں بھی کہوں گا کہ جاری رکھو۔وہ کہیں گے کہ اچھا ہزار روپیہ رجسٹروں کے لئے منظور فرمائیں۔پھر کہیں گے فلاں فلاں لڑکے تعلیم پانے والے تھے مگر ان کے لئے مدرس نہیں ملتا تھا اب مدرس آ گیا ہے بتائیے ہم لڑکوں کو واپس کر دیں یا مدرس کو رکھ لیا جائے ؟ میں یہی کہوں گا کہ رکھو۔وہ کہیں گے کہ اچھا ۱۵۰۰ روپیہ مدرس کے لئے منظور فرما دیں۔اس طرح آٹھ لاکھ کا بجٹ سال کے آخر میں دس بارہ لاکھ تک پہنچ جائے گا فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت انہوں نے آپ لوگوں سے تعریف حاصل کر لی ہے کہ سُبْحَانَ اللہ کیا قربانی سے کام لیا گیا ہے آٹھ لاکھ میں سلسلہ کا تمام کام چلا لیا جائے گا۔پھر میرے ہاتھ سے آٹھ لاکھ کو بارہ لاکھ کروائیں گے۔بجٹ کے دو حصے غرض بجٹ کے دو حصے ہوتے ہیں آمد اور خرچ۔آمدن پوری طور پر آپ کے ہاتھ میں ہے اور خرچ پورے طور پر صدرانجمن احمدیہ کے ہاتھ میں ہے۔چندہ دینے والا اور چندہ لینے والا دونوں الگ الگ مقامات میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور جتنی جلدی خرچ بڑھ سکتا ہے اتنی جلدی آمد پیدا نہیں ہوتی۔آمد بڑھانے کے لئے پہلے ہم انسپکٹر بھیجتے ہیں انسپکٹروں کے بعد خط بھیجتے ہیں۔جب خطوں کا جواب نہیں آتا تو یاددہانی کی چٹھیاں لکھتے ہیں اس پر بہت لوگ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ انجمن کا کوئی دفتر نہیں آپ کا خط پڑھ کر ہم نے کہیں رکھا اور وہ گم ہو گیا اب یاد نہیں کہ اُس کا مفہوم کیا تھا۔بعض لوگ یہ جواب دے دیتے ہیں کہ خط تو سنا دیا تھا مگر جماعت نے توجہ نہیں کی اب پھر موقع ملا تو جماعت کو سنائیں گے اور تحریک کریں گے کہ وہ اپنا چندہ بڑھائے اس طرح آمدن آٹھ لاکھ کی ہی رہی ہے اور خرچ ۱۲ لاکھ کو جا پہنچا ہے ان حالات کی درستی کے لئے ضروری ہے کہ جماعت اپنی ذہنیت بدلے یہ سمجھے کہ جب وہ ایک بجٹ بنا کر تیار کرتی ہے تو اُسے اُس بجٹ کی تو شرم ہونی چاہیے۔بسا اوقات کئی لوگ ابھی رستے میں ہی ہوتے ہیں کہ انجمن کی طرف سے درخواست آجاتی ہے کہ فلاں مد میں ۵۰۰۰ کی زیادتی کی جاوے یا اتنے استاد غلطی سے نہیں رکھے گئے یا اتنے مبلغ غلطی سے نہیں رکھے گئے۔اب اُن کے اخراجات کا اضافہ ناگزیر ہے اور ابھی آپ اپنے گھروں میں بھی نہیں پہنچتے کہ بجٹ میں زیادتی شروع ہو جاتی ہے۔یہ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ