خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 760

خطاباتِ شورٰی (جلد سوم۔ 1944ء تا 1961ء) — Page 312

خطابات شوری جلد سوم ۳۱۲ مجلس مشاورت ۱۹۴۸ء اگر کسی جماعت میں مرکز کی طرف سے کوئی مبلغ موجود ہوتو وہ ان ایام میں اپنے ہاں تعلیم القرآن کلاس کا انتظام کر کے نظارت تعلیم و تربیت سے اجازت حاصل کر لیں“۔بعض دوستوں کے دریافت کرنے پر حضور نے فرمایا کہ: ۵۰ ،۱۰۰ یا ۱۰۰ سے او پر افراد کی تعین کی گئی ہے اس سے مراد صرف چندہ دہندہ افراد نہیں بلکہ تمام افراد مراد ہیں اور ان میں عورتیں بچے جوان اور بوڑھے سب شامل ہیں۔“ اس کے بعد نمائندگان جماعت سے مشورہ لیا تو ۲۶۸ دوستوں نے اس کے حق میں اور ۹ دوستوں نے اس کے خلاف رائے دی۔فرمایا: - فیصلہ ” میرے خیال میں تو پچاس افراد تک ایک نمائندہ ، سو افراد تک دونمائندے اور سو سے اوپر تعداد رکھنے والی جماعتوں کی طرف سے تین نمائندوں کو بھجوایا جانا ایک ایسی تجویز ہے جس میں دور کی جماعتوں کے لئے بہت سی مشکلات پیش آسکتی ہیں جیسے بنگال وغیرہ کی جماعتیں اور پھر اگر غور سے کام لیا جائے تو پچاس فیصدی تو بچے نکل جائیں گے اور ۲۵ فیصدی عورتیں نکل جائیں گی صرف ۲۵ فیصدی مرد باقی رہ جائیں گے جن پر اس قانون کا اطلاق ہوگا اور اُن ۲۵ فیصدی میں سے دو نمائندوں کا آنا درحقیقت یہ معنی رکھتا ہے کہ ہم اُن سے دو فیصدی کا نہیں بلکہ آٹھ فیصدی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن بہر حال چونکہ جماعت کی اکثریت نے یہی مشورہ دیا ہے کہ اس قانون کو منظور کر لیا جائے اس لئے میں اُن کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے اس کی منظوری کا اعلان کرتا ہوں لیکن یہ وضاحت کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ قانون صرف مغربی پنجاب کی جماعتوں کے لئے ہوگا مغربی پنجاب سے باہر کی جو جماعتیں ہیں اُن کے لئے اس سے نصف تعداد بھجوانا کافی ہوگی اور چونکہ لجنہ نے تجویز کیا ہے کہ ان دنوں عورتوں کے لئے بھی ایک تعلیم القرآن کلاس کھولی جائے کیونکہ قرآن صرف مردوں کے لئے نازل نہیں ہوا بلکہ عورتوں کے لئے بھی نازل ہوا ہے اس لئے لجنہ اماء اللہ کی تعلیم القرآن کلاس میں شامل ہونے کے لئے اگر کسی جماعت کی طرف سے کوئی عورت آئے گی تو وہ بھی اس دو فیصدی میں شامل سمجھی جائے گی اس طرح عورتوں میں بھی اُمید ہے کہ دین کا چرچا پہلے سے زیادہ ہو جائے گا۔“